4- کلمہ "یوم"
قَدْ خَسِرَ الَّذِينَ قَتَلُوا أَوْلَادَهُمْ سَفَهًا بِغَيْرِ عِلْمٍ وَحَرَّمُوا مَا رَزَقَهُمُ اللَّهُ افْتِرَاءً عَلَى اللَّهِ ۚ قَدْ ضَلُّوا وَمَا كَانُوا مُهْتَدِينَ ۱۴۰
یقینا وہ لوگ خسارہ میں ہیں جنہوں نے حماقت میں بغیر جانے بوجھے اپنی اولاد کو قتل کردیا اور جو رزق خدا نے انہیں دیا ہے اسے اسی پر بہتان لگا کر اپنے اوپر حرام کرلیا -یہ سب بہک گئے ہیں اور ہدایت یافتہ نہیں ہیں.
4- کلمہ "یوم"
اس تعبیر سے ممکن ہے اس امر کی طرف اشارہ مقصود ہو کہ میدہ توڑنے اور زراعت کا حصول لینے کا کام بہتر ہے کہ دن کے وقت انجام پائے چاہے اس طرح صاحبان احتیاج اکٹھا کیوں نہ ہو جائیں۔ یہ نہ ہو کہ بعض بخیل افراد اس خوف سے کہ لوگوں کو پتہ نہ چل جائے رات کے وقت یہ کام کریں ۔ جو احادیث اہل بیتؑ کے ذریعے ہم تک پہنچی ہیں ان سے بھی اس بات کی تاکید و تائید ہوتی ہے ۔ ؎1
۔----------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------------
؎1 اس موضوع سے متعلق روایات کو صاحب وسائل نے دیکھو وسائل الشیعہ کتاب زکوة ، ابواب زکوة باب 13 - نیز بہیقی نے بھی لکھا ہے۔ دیکھو کتاب سنن جلد 4 ص 132۔ ؎2 اس موضوع سے متعلق روایات کے لیے ملاحظہ ہو کتاب وسائل الشیعہ ، کتاب زکوة، ابواب زکوة الفلات باب کراہتہ الحصاد و الجذاذ ..... بالیل (جلد 6 ص 136).