Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۶۔ ”حنیف“ کا معنی

										
																									
								

Ayat No : 75-79

: الانعام

وَكَذَٰلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ ۷۵فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَأَىٰ كَوْكَبًا ۖ قَالَ هَٰذَا رَبِّي ۖ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَا أُحِبُّ الْآفِلِينَ ۷۶فَلَمَّا رَأَى الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هَٰذَا رَبِّي ۖ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَمْ يَهْدِنِي رَبِّي لَأَكُونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّالِّينَ ۷۷فَلَمَّا رَأَى الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هَٰذَا رَبِّي هَٰذَا أَكْبَرُ ۖ فَلَمَّا أَفَلَتْ قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ ۷۸إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا ۖ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ۷۹

Translation

اور اسی طرح ہم ابراہیم علیھ السّلامکو آسمان و زمین کے اختیارات دکھلاتے ہیں اور اس لئے کہ وہ یقین کرنے والوں میں شامل ہوجائیں. پس جب ان پر رات کی تاریکی چھائی اور انہوں نے ستارہ کو دیکھا تو کہا کہ کیا یہ میرا رب ہے . پھر جب وہ غروب ہوگیا تو انہوں نے کہا کہ میں ڈوب جانے والوں کو دوست نہیں رکھتا. پھر جب چاند کو چمکتا دیکھا تو کہا کہ پھر یہ رب ہوگا .پھر جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہا کہ اگر پروردگار ہی ہدایت نہ دے گا تو میں گمراہوں میں ہوجاؤں گا. پھر جب چمکتے ہوئے سورج کو دیکھا تو کہا کہ پھر یہ خدا ہوگا کہ یہ زیادہ بڑا ہے لیکن جب وہ بھی غروب ہوگیا تو کہا کہ اے قوم میں تمہارے شِرک سے بری اور بیزار ہوں. میرا رخ تمام تر اس خدا کی طرف ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں باطل سے کنارہ کش ہوں اور مشرکوں میں سے نہیں ہوں.

Tafseer

									۶۔ ”حنیف“ کا معنی خالص ہے جیسا کہ اس کی تفصیل سورہٴ آلِ عمران آیت ۶۷ کے ذیل میں جلد دوم تفسیر نمونہ ص ۳۲۹ (اردو ترجمہ) میں بیان ہوچکی ہے۔
۸۰ وَحَاجَّہُ قَوْمُہُ قَالَ اٴَتُحَاجُّونِی فِی اللَّہِ وَقَدْ ہَدَانِی وَلاَاٴَخَافُ مَا تُشْرِکُونَ بِہِ إِلاَّ اٴَنْ یَشَاءَ رَبِّی شَیْئًا وَسِعَ رَبِّی کُلَّ شَیْءٍ عِلْمًا اٴَفَلاَتَتَذَکَّرُونَ--
۸۱ وَکَیْفَ اٴَخَافُ مَا اٴَشْرَکْتُمْ وَلاَتَخَافُونَ اٴَنَّکُمْ اٴَشْرَکْتُمْ بِاللَّہِ مَا لَمْ یُنَزِّلْ بِہِ عَلَیْکُمْ سُلْطَانًا فَاٴَیُّ الْفَرِیقَیْنِ اٴَحَقُّ بِالْاٴَمْنِ إِنْ کُنتُمْ تَعْلَمُونَ-
۸۲ اَلَّذِینَ آمَنُوا وَلَمْ یَلْبِسُوا إِیمَانَہُمْ بِظُلْمٍ اٴُوْلَئِکَ لَہُمْ الْاٴَمْنُ وَہُمْ مُہْتَدُونَ-
۸۳ وَتِلْکَ حُجَّتُنَا آتَیْنَاہَا إِبْرَاہِیمَ عَلیٰ قَوْمِہِ نَرْفَعُ دَرَجَاتٍ مَنْ نَشَاءُ إِنَّ رَبَّکَ حَکِیمٌ عَلِیمٌ-
ترجمہ
۸۰۔ اُس (ابراہیم) کی قوم نے اُس سے حجت بازی شروع کی تو اُنہوں نے کہا کہ تم مجھ سے خدا کے بارے میں حجت بازی کیوں کرتے ہو۔ حالانکہ خدانے مجھے (واضح ولائل کے ساتھ) ہدایت کی ہے اور جسے تم خدا کا شریک قرار دیتے ہو میں اُس سے نہیں ڈرتا۔ (اور مجھے کوئی نقصان نہیں پہنچے گا) مگر یہ کہ میرا پروردگار کچھ چاہے۔ میرے پروردگار کی آگاہی اور علم اس قدر وسیع ہے کہ وہ تمام چیزوں پر حاوی ہے، کیا تم متذکر (اور بیدار) نہیں ہوتے۔
۸۱۔ میں تمہارے بتوں سے کس طرح ڈروں جب کہ تم اس بات سے نہیں ڈرتے کہ تم نے خدا کا ایسا شریک قرار دے لیا ہے کہ جس کے بارے میں اس نے تم پر کوئی دلیل نازل نہیں کی (سچ بتاؤ) ان دونوں گروہوں (بت پرستوں اور خدا پرستوں) میں سے کونسا گروہ (سزا سے) اَمن میں رہنے کے زیادہ لائق ہے۔ اگر تم جانتے ہو۔
۸۲۔ ہاں ہاں وہ لوگ جو ایمان لائے ہیں اور انھوں نے اپنے ایمان کو شرک کے ساتھ مخلوط نہیں کیا، ان کا انجام امن ہے اور وہ ہدایت یافتہ ہیں۔
۸۳۔ یہ ہمارے دلائل تھے جو ہم نے ابراہیم کو اس کی قوم کے مقابلے میں دیئے تھے۔ ہم جس شخص کے درجات کو چاہتے ہیں (اور اُسے لائق دیکھتے ہیں) اُوپر لے جاتے ہیں۔ تیرا پروردگار حکیم اور دانا ہے۔