Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ”فطر“۔سے مراد

										
																									
								

Ayat No : 75-79

: الانعام

وَكَذَٰلِكَ نُرِي إِبْرَاهِيمَ مَلَكُوتَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَلِيَكُونَ مِنَ الْمُوقِنِينَ ۷۵فَلَمَّا جَنَّ عَلَيْهِ اللَّيْلُ رَأَىٰ كَوْكَبًا ۖ قَالَ هَٰذَا رَبِّي ۖ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَا أُحِبُّ الْآفِلِينَ ۷۶فَلَمَّا رَأَى الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ هَٰذَا رَبِّي ۖ فَلَمَّا أَفَلَ قَالَ لَئِنْ لَمْ يَهْدِنِي رَبِّي لَأَكُونَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّالِّينَ ۷۷فَلَمَّا رَأَى الشَّمْسَ بَازِغَةً قَالَ هَٰذَا رَبِّي هَٰذَا أَكْبَرُ ۖ فَلَمَّا أَفَلَتْ قَالَ يَا قَوْمِ إِنِّي بَرِيءٌ مِمَّا تُشْرِكُونَ ۷۸إِنِّي وَجَّهْتُ وَجْهِيَ لِلَّذِي فَطَرَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضَ حَنِيفًا ۖ وَمَا أَنَا مِنَ الْمُشْرِكِينَ ۷۹

Translation

اور اسی طرح ہم ابراہیم علیھ السّلامکو آسمان و زمین کے اختیارات دکھلاتے ہیں اور اس لئے کہ وہ یقین کرنے والوں میں شامل ہوجائیں. پس جب ان پر رات کی تاریکی چھائی اور انہوں نے ستارہ کو دیکھا تو کہا کہ کیا یہ میرا رب ہے . پھر جب وہ غروب ہوگیا تو انہوں نے کہا کہ میں ڈوب جانے والوں کو دوست نہیں رکھتا. پھر جب چاند کو چمکتا دیکھا تو کہا کہ پھر یہ رب ہوگا .پھر جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہا کہ اگر پروردگار ہی ہدایت نہ دے گا تو میں گمراہوں میں ہوجاؤں گا. پھر جب چمکتے ہوئے سورج کو دیکھا تو کہا کہ پھر یہ خدا ہوگا کہ یہ زیادہ بڑا ہے لیکن جب وہ بھی غروب ہوگیا تو کہا کہ اے قوم میں تمہارے شِرک سے بری اور بیزار ہوں. میرا رخ تمام تر اس خدا کی طرف ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا ہے اور میں باطل سے کنارہ کش ہوں اور مشرکوں میں سے نہیں ہوں.

Tafseer

									۵۔ ”فطر“۔”فطور“ کے مادہ سے شگاف کرنے اور پھاڑ نے کے معنی میں ہے اور جیسا کہ اسی سورہ کی آیت ۱۴ کے ذیل میں ہم لکھ چکے ہیں کہ اس لفظ کا آسمان و زمین کی پیدائش پر اطلاق شاید اس سبب سے ہو کہ موجودہ زمانے کے علم کے مطابق ابتداء میں سارا عالم ایک ہی کرّہ تھا اور بعد میں مختلف ٹکڑے ایک دوسرے سے علیحدہ ہوتے گئے اور آسمانی کرات یکے بعد دیگرے وجود میں آتے گئے (مزید توضیح کے لیے مذکورہ آیت کی تفسیر کی طرف رجوع کیا جائے)۔