Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۲۔ آیات کا ایک دوسرے کے ساتھ ربط

										
																									
								

Ayat No : 67

: المائدة

يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنْزِلَ إِلَيْكَ مِنْ رَبِّكَ ۖ وَإِنْ لَمْ تَفْعَلْ فَمَا بَلَّغْتَ رِسَالَتَهُ ۚ وَاللَّهُ يَعْصِمُكَ مِنَ النَّاسِ ۗ إِنَّ اللَّهَ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْكَافِرِينَ ۶۷

Translation

اے پیغمبر آپ اس حکم کو پہنچادیں جو آپ کے پروردگار کی طرف سے نازل کیا گیا ہے اور اگر آپ نے یہ نہ کیا تو گویا اس کے پیغام کو نہیں پہنچایا اور خدا آپ کو لوگوں کے شر سے محفوظ رکھے گا کہ اللہ کافروں کی ہدایت نہیں کرتا ہے.

Tafseer

									بعض اوقات یہ کہا جاتا ہے کہ اس سے قبل وبعد کی آیات اہل کتاب اور ان کی غلط کاریوں کے بارے میں ہیں ۔ خاص طور پر تفسیر المنار کے موٴلف نے جلد۶ صفحہ۴۶۶ پر اس مسئلہ پر زیادہ زور دیا ہے ۔ لیکن جیسا کہ ہم خود اس آیت کی تفسیر میں کہہ چکے ہیں کہ اس بات کی کوئی اہمیت نہیں ہے ؛ کیونکہ اوّل تو اس آیت کا لب ولہجہ اور اس کا قبل وبعد کی آیات سے فرق مکمل طور پر یہ نشاندہی کرتا ہے کہ اس آیت میں موضوع سخن کوئی ایسی چیز ہے جو قبل وبعد کی آیات سے مختلف ہے، دوسری بات یہ ہے کہ جیسا کہ ہم بارہا کہہ چکے ہیں کہ قرآن ایک کلاسیکی کتاب نہیں ہے کہ جس کے مطالب کو خاص حصّوں اور ابواب میں ترتیب کے ساتھ بیان گیا ہو، بلکہ جیسے جیسے ضرورت پڑتی گئی اور مختلف حادثات وواقعات رونما ہوتے گئے اُن کے مطابق نازل ہوتا رہا، لہٰذا ہم دیکھتے ہیں قرآن ایک جنگ کے متعلق بحث کرتے کرتے یکایک ایک فرعی حکم کا ذکر چھیڑ دیتا ہے ۔ یا جب وہ یہود ونصاریٰ کے بارے میں گفتگو کررہا ہوتا ہے تو اچانک ہی مسلمانوں کی طرف روئے سخن کرتے ہوئے ایک اسلامی حکم اُن کے لئے بیان کردیتا ہے ۔
مزید وضاحت کے لئے ایک دفعہ اس بحث کی طرف رجوع فرمائیں جو ہم نے اس آیت کی تفسیر کے ابتدا میں کی ہے ۔
تعجب کی بات یہ ہے کہ بعض متعصب قسم کے لوگوں کو اس بات پر اصرار ہے کہ یہ آیت ابتدائے بعثت میں نازل ہوئی ۔ حالانکہ سورہٴ مائدہ پیغمبر کی زندگی کے آخری ایام میں نازل ہوا ہے اور اگر وہ یہ کہیں کہ صرف یہ ایک آیت مکہ میں ابتدائے بعثت میں نازل ہوئی ہے جسے آپ منوانا چاہتے ہیں کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ ابتدائے بعثت میں نہ تو پیغمبر یہودیوں کے ساتھ برسرجنگ تھے اور نہ ہی عیسائیوں کے ساتھ ، اس بنیاد پر تو اس آیت کا قبل وبعد کی آیت سے کوئی تعلق ہی نہ رہے گا(غور کیجئے)۔
یہ سب چیزیں اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ آیت تعصب کے طوفان کی زد میں آگئی ہے اور اسی بناپر اس میں کئی طرح کے احتمالات پیدا کئے جاتے ہیں جبکہ اس جیسی دوسری آیات میں اُس قسم کی کوئی بات نہیں ہوتی ۔ ہر ایک اسی کوشش میں لگا ہوا ہے کہ کسی حیلہ وبہانہ سے یا کسی بے بنیاد ودستاویز کے ذریعہ اس کے مفہوم کو اس کے صحیح راستہ سے منحرف کردے ۔