Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۵۔ آیت میں ”ولایت بالفعل “کا ذکر ہے

										
																									
								

Ayat No : 55

: المائدة

إِنَّمَا وَلِيُّكُمُ اللَّهُ وَرَسُولُهُ وَالَّذِينَ آمَنُوا الَّذِينَ يُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَهُمْ رَاكِعُونَ ۵۵

Translation

ایمان والو بس تمہارا ولی اللہ ہے اور اس کا رسول اور وہ صاحبانِ ایمان جو نماز قائم کرتے ہیں اور حالت رکوع میں زکوِٰ دیتے ہیں.

Tafseer

									 اعتراض کیا جاتا ہے کہ اگر ہم حضرت علی (علیه السلام) کی خلافت ِ بلا فصل پر ایمان بھی آئیں تب بھی یہ بات قبول کرنا پڑے گی کہ اس تعلق زمانہ ٴ پیغمبر کے بعد سے ہے لہٰذا حضرت علی (علیه السلام) نزول آیت کے وقت ولی نہ تھے ۔ دوسرے لفظوں میں اس وقت ان کے لئے ” ولایت بالقوة “ تھی ” ولایت بالفعل“ نہ تھی جب کہ آیت ظاہراً ” ولایت بالفعل“کا ذکر کررہی ہے ۔ 
اس کا جواب یہ ہے کہ روز مرہ کی گفتگو میں ایسی والی تعبیرات بہت دکھائی دیتی ہیں ۔ لوگوں کے لئے ایسے الفاظ بولے جاتے ہیں جو وہ ” بالقوة“ ہیں مثلاً انسان اپنی زندگی میں وصیت کرتا ہے او رکسی شخص کو اپنے بچوں کے لئے وصی اور قیم معین کرتا ہے اور اسی وقت سے ” وصی “ اور قیم “ کے الفاظ اس شخص کے لئے بولے جانے لگتے ہیں جب کہ وصیت کرنے والا ابھی زندہ ہوتا ہے ۔ 
شیعہ سنی طرق سے پیغمبر اکرم سے جو روایات حضرت علی (علیه السلام) کے بارے میں مروی ہیں ان میں ہم دیکھتے ہیں کہ آپ نے انہیں ” میرے وصی“ اور میرے خلیفہ “ کہہ کر خطاب کیا جب کہ ایسا زمانہٴ پیغمبر میں نہ تھا ۔
قرآن مجید میں بھی ایسی تعبیرات دکھائی دیتی ہیں ان میں سے ایک یہ ہے کہ حضرت زکریا (علیه السلام) کے بارے میں ہے کہ انھوں نے خدا سے یہ در خواست کی 
” ھب لی من لدنک ولیاً یرثنی و یرث من اٰل یعقوب “ ( مریم ۔ ۵)
حالانکہ مسلم ہے کہ ”ولی “ سے یہاں مراد ” سرپرست “ ہے جو ان کی وفات کے بعد ہو گا ۔ 
بہت سے لوگ اپنے جانشین اپنی زندگی میں معین کرتے ہیں اور اسی وقت سے اسے جانشین کہنے لگتے ہیں حالانکہ وہ ” بالقوة “ ہی ہوتے ہیں ” بالفعل “ نہیں ۔