Tafseer e Namoona

Topic

											

									  دوسوال اور ان کا جواب

										
																									
								

Ayat No : 34-36

: البقرة

وَإِذْ قُلْنَا لِلْمَلَائِكَةِ اسْجُدُوا لِآدَمَ فَسَجَدُوا إِلَّا إِبْلِيسَ أَبَىٰ وَاسْتَكْبَرَ وَكَانَ مِنَ الْكَافِرِينَ ۳۴وَقُلْنَا يَا آدَمُ اسْكُنْ أَنْتَ وَزَوْجُكَ الْجَنَّةَ وَكُلَا مِنْهَا رَغَدًا حَيْثُ شِئْتُمَا وَلَا تَقْرَبَا هَٰذِهِ الشَّجَرَةَ فَتَكُونَا مِنَ الظَّالِمِينَ ۳۵فَأَزَلَّهُمَا الشَّيْطَانُ عَنْهَا فَأَخْرَجَهُمَا مِمَّا كَانَا فِيهِ ۖ وَقُلْنَا اهْبِطُوا بَعْضُكُمْ لِبَعْضٍ عَدُوٌّ ۖ وَلَكُمْ فِي الْأَرْضِ مُسْتَقَرٌّ وَمَتَاعٌ إِلَىٰ حِينٍ ۳۶

Translation

اور یاد کرو وہ موقع جب ہم نے ملائکہ سے کہا کہ آدم علیھ السّلام کے لئے سجدہ کرو تو ابلیس کے علاوہ سب نے سجدہ کرلیا. اس نے انکار اور غرور سے کام لیا اور کافرین میں ہوگیا. اور ہم نے کہا کہ اے آدم علیھ السّلام! اب تم اپنی زوجہ کے ساتھ جنّت میں ساکن ہوجاؤ اور جہاں چاہو آرام سے کھاؤ صرف اس درخت کے قریب نہ جانا کہ اپنے اوپر ظلم کرنے والوں میں سے ہوجاؤگے. تب شیطان نے انہیں فریب دینے کی کوشش کی اور انہیں ان نعمتوں سے باہر نکال لیا اور ہم نے کہا کہ اب تم سب زمین پر اترجاؤ وہاں ایک دوسرے کی دشمنی ہوگی اور وہیں تمہارا مرکز ہوگا اور ایک خاص وقت تک کے لئے عیش زندگانی رہےگی.

Tafseer

									دوسوال اس موقع پر باقی رہ جاتے ہیں پہلا یہ کہ خدا وند عالم نے حضرت آدم کو کس طرح ان علوم کی تعلیم دی تھی اور دوسرا یہ کہ اگر ان علوم کی فرشتوں کو بھی تعلیم دے دیتا تو وہ بھی آدم والی فضیلت حاصل کرلیتے یہ آدم کے لئے کون سا افتخار و اعزاز ہے جو فرشتوں کے لئے نہیں ۔
پہلے سوال کے جواب میں اس نکتے کی طرف توجہ کرنی چاہیئے کہ یہاں تعلیم جنبئہ تکوینی رکھتی ہے یعنی خدا نے یہ آگاہی آدم کی طبیعت و سرشت میں قرار دی تھی اور تھوڑی سی مدت میں اسے بار آور کردیا تھا ۔
لفظ تعلیم کا اطلاق تعلیم تکوینی پر قرآن میں ایک جگہ اور بھی آیا ہے ۔ سورہ رحمٰن آیہ ۴ میں ہے:
علمہ البیان 
خدا وندے عالم نے انسان کو بیان کی تعلیم دی ہے
واضح ہے کہ یہ تعلیم خدا وند عالم نے انسان کو مکتب آفرینش و خلقت میں دی ہے اور اس سے مراد وہی استعداد و خصوصیت فطری ہے جو انسانوں کے مزاج میں رکھ دی گئی ہے تاکہ وہ بات کرسکیں ۔
دوسرے سوال کے جواب میں اس طرف توجہ رکھنی چا ہئیے کہ ملائکہ کی خلقت ایک خاص قسم کی ہے جس میں یہ تمام علو م حاصل کر نے کی اس تعداد نہیں ہے وہ ایک اور مقصد کے لئے پیدا کئے گئے ہیں اس مقصد کے لئے ان کی تخلیق نہیں ہو ئی ۔یہی وجہ ہے کہ اس امتحان کے بعد ملائکہ حقیقت حال سمجھ گئے اور انہوں نے قبول کرلیا ۔پہلے شاید وہ سو نچتے تھے کہ اس مقصد کی اہلیت بھی ان میں ہے مگر خدا نے علم اسماء کے امتحان سے آدم اوران کی استعداد کا فرق واضح کر دیا ۔
یہاں ایک اور سوال بھی سامنے آتا ہے کہ اگرمقصود علم اسرار خلقت اور تمام موجودات کے خواص جاننا تھا تو پھر ضمیر ”ھم “ لفظ ”اسمائھم اور لفظ ھٰؤلاء “ کیوں استعمال ہوئے جو عموما افراد عاقل کے لئے بھی استعمال ہوتے ہیں ۔ اس کا جواب یہ ہے کہ ایسا نہیں کہ ضمیر ”ھم اور لفظ ھٰولاء صرف ذوی العقول کے لئے استعمال ہوتے ہیں بلکہ بعض اوقات عاقل اور غیر عاقل کے مجموعے پر یا یہاں تک کہ افراد غیر عاقل کے مجموعے کے لئے بھی بولے جاتے ہیں جیسے حضرت یوسف ستاروں ، سورج اور چاند کے بارے میں کہتے ہیں ۔ قرآن میں :
رئیتھم لی ساجدین 
میں نے خواب میں دیکھا یہ سب مجھے سجدہ کر رہے ہیں ۔(یوسف ۔۴)
۳۴۔واذقلنا للملائکة اسجدو لاٰدم فسجدو الا ابلیس ط ابی واستکبر وکان من الکافرین
۳۵۔ وقلنا یا ٰدم اسکن انت وزوجک الجنة و کلا منھا رغدا حیث شئتما ص ولا تقربا ھذہ الشجرة فتکونا من الظالمین 
۳۶۔ فازلھما الشیطان عنھا فاخرجھما مما کانا فیہ و قلنا اھبطو بعضکم لبعض عدو ج ولکم فی الارض مستقر ومتاع الی حین 
ترجمہ 
۳۴۔ اور جب ہم نے ملائکہ سے کہا کہ آدم کے لئے سجدہ وخضوع کرو تو شیطان کے علاوہ سب نے سجدہ کیا ۔ اس نے انکار کر دیا اور تکبر کر کے ( نافرمانی کی وجہ سے ) کافروں میں سے ہو گیا ۔
۳۵۔ اور ہم نے کہا اے آدم ! تم اپنی بیوی کے ساتھ جنت میں سکونت اختیار کرلو اور ( اس کی نعمتوں میں سے ) جو چاہو کھاؤ (لیکن ) اس درخت کے پاس نہ جانا ورنہ ستمگاروں میں سے ہوجاؤ گے ۔
۳۶۔ پس شیطان ان کی لغزش کا سبب بنا اور جس (بہشت ) میں وہ رہتے تھے انہیں وہاں سے نکال دیا اور ( اس وقت ) ہم نے ان سے کہا سب کے سب ( زمین کی طرف ) چلے جاؤ اس حالت میں کہ تم میں سے بعض دوسروں کے دشمن ہو گے زمین تمہاری ایک مدت معین کے لئے قرار گاہ ہے اور فائدہ اٹھانے کا وسیلہ ہے