(۲)پاکیزہ بیویاں
وَبَشِّرِ الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ أَنَّ لَهُمْ جَنَّاتٍ تَجْرِي مِنْ تَحْتِهَا الْأَنْهَارُ ۖ كُلَّمَا رُزِقُوا مِنْهَا مِنْ ثَمَرَةٍ رِزْقًا ۙ قَالُوا هَٰذَا الَّذِي رُزِقْنَا مِنْ قَبْلُ ۖ وَأُتُوا بِهِ مُتَشَابِهًا ۖ وَلَهُمْ فِيهَا أَزْوَاجٌ مُطَهَّرَةٌ ۖ وَهُمْ فِيهَا خَالِدُونَ ۲۵
پیغمبر آپ ایمان اور عمل صالح والوں کو بشارت دے دیں کہ ان کے لئے ایسے باغات ہیں جن کے نیچے نہریں جاری ہیں. انہیں جب بھی وہاںکوئی پھل دیا جائے گا تو وہ یہی کہیں گے کہ یہ تو ہمیں پہلے مل چکا ہے. حالانکہ وہ صرف اس کے مشابہ ہوگا اور ان کے لئے وہاں پاکیزہ بیویاں بھی ہوں گی اور انہیں اس میں ہمیشہ رہنا بھی ہے.
یہ امر قابل غور ہے کہ جنت کی بیویوں کی اس آیت سے صرف ایک صفت ”مطھرة“ بیان کی گئی ہے ۔ صفت مطہرة (یعنی پاک وپاکیزہ ) کا ذکر اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ بیوی کے لئے سب سے پہلی اور اہم ترین شرط پاکیزگی ہے باقی صفات سب اس کے ماتحت ہیں۔
پیغمبر اکرم کی ایک مشہور حدیث اس حقیقت کو روشن کرتی ہے ۔آپ نے فرمایا :
ایاکم وخضراء الدمن ،قیل :یا رسول اللہ وماخضراء الدمن ،قال المرئة الحسناء فی منبت السوء۔
ان سبز یوں سے پرہیز کرو جو کوڑا کرکٹ کے ڈھیر پر اگیں ۔عر ض کیا گیااے اللہ کے رسول آپ کا مقصد اس سبزی سے کیا ہے ۔آپ نے فرمایا : خوبصورت عورت جس نے گندے خاندان میں پرورش پائی ہو(۱)
(۱) وسائل الشیعہ ، جلد ۱ ،ص۱۹ ۔