گذشتہ انبیاء کے معجزات
وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ ۲۳فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ۖ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ ۲۴
اگر تمہیں اس کلام کے بارے میں کوئی شک ہے جسے ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے تو اس کا جیسا ایک ہی سورہ لے آؤ اور اللہ کے علاوہ جتنے تمہارے مددگار ہیںسب کو بلالو اگر تم اپنے دعوے اور خیال میںسچّے ہو. اور اگر تم ایسا نہ کرسکے اور یقینا نہ کرسکوگے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں اور جسے کافرین کے لئے مہیا کیا گیا ہے.
گذشتہ انبیاء کے معجزات بلکہ قرآن کے علاوہ آنحضرت کے دیگر معجزات بھی معین ومشخص زمان ومکان اور مخصوص افراد کے سامنے ظہور پذیر ہو تے تھے ۔مثلاََ حضرت مریم کے نو مولود بچے کی گفتگو ،مردوںکو زندہ کرنا اور حضرت مسیح کے ایسے دوسرے معجزات مخصوص زمان ومکان اور معین اشخاص کے لئے تھے ۔ہم جانتے ہیں کہ جو امو ر زمان ومکان کے رنگ سے ہم آہنگ ہوں گے وہ اس زمان ومکان سے جتنا دور ہونگے ان کے رنگ روپ میں کمی واقع ہوگی اور یہ چیز امور زمانی کے خواص میںسے ہے
لیکن قرآن کسی خاص زمان ومکان سے وابستہ نہیں۔یہ جس طرح جس حالت میں چودہ سو سال قبل حجازکے تاریک ماحول میں جلوہ گر تھا اسی طرح آج بھی ہم پر ضوفشاں ہے بلکہ رفتار زمانہ اور دانش کی پیش رفت کی وجہ سے ہم میں اس کی استعداد بڑھ گئی ہے کہ دور حاضر کے لوگوں کے لئے اس سے زیادہ استفادہ کرسکیں ۔یہ واضح ہے کہ جس پر اپنے زمان ومکان کا رنگ نہ ہو وہ بعد تک اور سارے جہان تک رسائی حاصل کر سکے گا اور یہ ہے بھی واضح کہ ایک عالمی دین کےلئے ضروری ہے کہ وہ عالمی وابدی سند حقانیت رکھتا ہو ۔