انبیاء کے لئے معجزے کی ضرورت
وَإِنْ كُنْتُمْ فِي رَيْبٍ مِمَّا نَزَّلْنَا عَلَىٰ عَبْدِنَا فَأْتُوا بِسُورَةٍ مِنْ مِثْلِهِ وَادْعُوا شُهَدَاءَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ ۲۳فَإِنْ لَمْ تَفْعَلُوا وَلَنْ تَفْعَلُوا فَاتَّقُوا النَّارَ الَّتِي وَقُودُهَا النَّاسُ وَالْحِجَارَةُ ۖ أُعِدَّتْ لِلْكَافِرِينَ ۲۴
اگر تمہیں اس کلام کے بارے میں کوئی شک ہے جسے ہم نے اپنے بندے پر نازل کیا ہے تو اس کا جیسا ایک ہی سورہ لے آؤ اور اللہ کے علاوہ جتنے تمہارے مددگار ہیںسب کو بلالو اگر تم اپنے دعوے اور خیال میںسچّے ہو. اور اگر تم ایسا نہ کرسکے اور یقینا نہ کرسکوگے تو اس آگ سے ڈرو جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہیں اور جسے کافرین کے لئے مہیا کیا گیا ہے.
ہم جانتے ہیں کہ نبوت ورسالت ایک عظیم تر ین منصب ہے جو پاک لوگوں کے ایک گروہ کو عطا ہواہے کیونکہ دوسرے منصب ومقام جسموںپر حکمرانی کرتے ہیںلیکن نبوت وہ منصب ہے جومعاشرے کی روح اور دل پر حکومت کرتا ہے جھوٹے مدعی اوربہت سے برے افراد ا س کی رفعت وسر بلندی کے ہی پیش نظر اس منصب کا دعویٰ کرتے ہیں اور اس سے غلط مفاد اٹھاتے ہیں ۔
ۺ لوگ یا تو ہر مدعی کے دعوی کو قبول کرلیں یا سب کی دعوت کو رد کر دیں ۔سب کو قبول کرلیں تو واضح ہے کہ کس قدر ہرج ومرج لازم آئے گا اور دین خدا کی کیا صورت بنے گی اور اگر کسی کو بھی قبول نہ کریں تو اس کا نتیجہ بھی گمراہی اور پسماندگی ہے اس بناء پر جس دلیل کی رو سے انبیاء کا وجود ضروری ہے اسی دلیل کی روشنی میں سچے انبیاء کے پاس ایسی نشانی ہونی چاہیے جو جھوٹے دعویدار وں سے انہیں ممتاز قرار دے اور وہ ان کی حقانیت کی سند ہو ۔
اس ا صل کی بناء پر ضروری ہے کہ نبی معجزہ لے کر آئے جو اسکی رسالت کی صداقت کا شاہد ہو سکے اور جیساکہ لفظ معجزہ سے واضح ہے نبی خارق العادہ اعمال (و ہ کام جو عموماََ نہ ہو ئے ہوں )انجام دینے کی قدرت رکھتاہو جن کی انجام دہی سے دوسرے لوگ عاجز ہوں۔
نبی جو صاحب معجزہ ہے اس کے لئے ضروری ہے کہ وہ لوگوں کو مقابلہ بمثل دعوت دے (یعنی کہے کہ ایسا کام تم بھی کردکھاوٴ)اور اپنی گفتار کی سچائی کی علامت ونشانی کو اپنا معجزہ قرار دے تاکہ اگر دوسرے بھی ویسا کام کرسکتے ہیں تو بجالائیں اس کام کو اصطلاح میں تحدی (چیلنج)کہتے ہیں