۳۔ شب قدر مخفی کیوں رکھی گئی ؟
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ إِنَّا أَنْزَلْنَاهُ فِي لَيْلَةِ الْقَدْرِ ۱وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ ۲لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ ۳تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِمْ مِنْ كُلِّ أَمْرٍ ۴سَلَامٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ ۵
بے شک ہم نے اسے شب قدر میں نازل کیا ہے. اور آپ کیا جانیں یہ شب قدر کیا چیز ہے. شب قدر ہزار مہینوں سے بہتر ہے. اس میں ملائکہ اور روح القدس اسُن خدا کے ساتھ تمام امور کو لے کر نازل ہوتے ہیں. یہ رات طلوع فجر تک سلامتی ہی سلامتی ہے.
بہت سے علماء کا نظر یہ یہ ہے کہ سال بھر کی راتوں یا ماہ مبارک رمضان کی راتوں میں شب قدر کا مخفی ہونا اس بناء پر ہے کہ لوگ ان سب راتوں کو اہمیت دیں ۔ جیسا کہ خدا نے اپنی رضا و خوشنودی کی مختلف قسم کی عبادتوں میں پنہاں کررکھا ہے تاکہ لوگ سب عبادتوں اور اطاعتوں کی طرف رخ کریں ۔ او ر اپنے غضب کو معاصی کے درمیان پنہاں رکھا ہے ، تاکہ سب لوگ گناہوں سے پر ہیز کریں ، اپنے دوستوں کو لوگوں سے مخفی رکھا ہے تاکہ سب کا احترام کریں، اور دعاوٴں کی قبولیت کو مختلف دعاوٴں میں پنہاں رکھا ہے تاکہ دعاوٴں کی طرف رخ کریں ۔
اسم اعظم کو اپنے اسماء میں مخفی رکھا ہے تاکہ تمام اسماء کو بزرگ و عظیم سمجھیں ۔ اور موت کے وقت کو مخفی رکھا ہے تاکہ ہر حالت میں آمادہ وتیار رہیں۔ اور یہ فلسفہ مناسب نظر آتا ہے ۔