انجیر اور زیتون کا فایده
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ وَالتِّينِ وَالزَّيْتُونِ ۱وَطُورِ سِينِينَ ۲وَهَٰذَا الْبَلَدِ الْأَمِينِ ۳لَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ فِي أَحْسَنِ تَقْوِيمٍ ۴ثُمَّ رَدَدْنَاهُ أَسْفَلَ سَافِلِينَ ۵إِلَّا الَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فَلَهُمْ أَجْرٌ غَيْرُ مَمْنُونٍ ۶فَمَا يُكَذِّبُكَ بَعْدُ بِالدِّينِ ۷أَلَيْسَ اللَّهُ بِأَحْكَمِ الْحَاكِمِينَ ۸
قسم ہے انجیر اور زیتون کی. اور طورسینین کی. اور اس امن والے شہر کی. ہم نے انسان کو بہترین ساخت میں پیدا کیا ہے. پھر ہم نے اس کو پست ترین حالت کی طرف پلٹا دیا ہے. علاوہ ان لوگوں کے جو ایمان لائے اور انہوں نے نیک اعمال انجام دیئے تو ان کے لئے نہ ختم ہونے والا اجر ہے. پھر تم کو روز جزا کے بارے میں کون جھٹلا سکتا ہے. کیا خدا سب سے بڑا حاکم اور فیصلہ کرنے والا نہیں ہے.
ایک اور حدیث میں پیغمبراکرم صلی اللہ علیہ و وسلم سے آیاہے :
” من قراٴھا اعطاہ اللہ خصلتین :العادیة و الیقین مادام دی دار الدنیا، فاذا مات اعطاہ اللہ من الاجر بعدد من قراٴ ھٰذہ السورة صیام یومً!“:
”جو شخص اس سورہ کو پڑھے گا جب تک وہ دنیا میں رہے گا خدا اس کو دو نعمتیں عطا کرے گا: سلامتی اور یقین، اور جب دنیا سے رخصت ہوجائے گا، تو ان تمام لوگوں کی تعداد کے برابر جنہوں نے اس سورہ کو پڑھا ہے، ان سب کے ایک دن کے روزہ کا ثواب اجر کے طور پر اسے عطا کرے گا۔“ ۱
بسم اللہ الرحمن الرحیم
۱۔ و التین و الزیتون۔ ۲۔ و طور سینینَ ۳۔ و ھٰذا البلدِ الاَمین۔ ۴۔ لقد خلقنا الانسان فیْٓ احسن تقویمٍ
۵۔ ثم رددنٰہ اسفل سٰفلین۔ ۶۔ الا الذین اٰمنوا و عملوا الصٰلحٰت فلھم اجر غیر ممنونٍ۔
۷۔ فما یکذبُک بعدُ بالدیِّن۔ ۸۔ الیس اللہُ باَحکم الحٰکمینَ۔
ترجمہ شروع اللہ کے نام سے جو رحمن و رحیم ہے
۱۔ انجیر اور زیتون کی قسم ( یا سر زمینِ شام اور بیت المقدس کی قسم )۔
۲۔ اور طور سنین کی قسم ۔ ۳۔ اور اس امن والے شہر( مکہ) کی قسم
۴۔ کہ ہم نے انسان کو بہترین صورت اور بہترین نظام میں پیدا کیا ہے ۔
۵۔ پھر ہم نے اسے پست ترین مرحلہ کی طرف لوٹا دیا ۔
۶۔ سوائے ان لوگوں کے جو ایمان لے آئے اور عملِ صالح بجالائے ، تو ان کے لئے ایسا اجر و ثواب ہے جو منقطع نہ ہوگا۔
۷۔ پس ان تمام چیزوں کے باوجود تیرے روزِ جزا کے تکذیب کرنے کا سبب کیاہے ؟ !
۸۔ کیا خدا بہترین حکم کرنے والا نہیں ہے ؟
ا۔ ” مجمع البیان “ جلد ۱۰ ص۵۱۰۔