Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۲۔ انفاق فی سبیل اللہ کی فضیلت

										
																									
								

Ayat No : 12-21

: الليل

إِنَّ عَلَيْنَا لَلْهُدَىٰ ۱۲وَإِنَّ لَنَا لَلْآخِرَةَ وَالْأُولَىٰ ۱۳فَأَنْذَرْتُكُمْ نَارًا تَلَظَّىٰ ۱۴لَا يَصْلَاهَا إِلَّا الْأَشْقَى ۱۵الَّذِي كَذَّبَ وَتَوَلَّىٰ ۱۶وَسَيُجَنَّبُهَا الْأَتْقَى ۱۷الَّذِي يُؤْتِي مَالَهُ يَتَزَكَّىٰ ۱۸وَمَا لِأَحَدٍ عِنْدَهُ مِنْ نِعْمَةٍ تُجْزَىٰ ۱۹إِلَّا ابْتِغَاءَ وَجْهِ رَبِّهِ الْأَعْلَىٰ ۲۰وَلَسَوْفَ يَرْضَىٰ ۲۱

Translation

بے شک ہدایت کی ذمہ داری ہمارے اوپر ہے. اور دنیا و آخرت کا اختیار ہمارے ہاتھوں میں ہے. تو ہم نے تمہیں بھڑکتی ہوئی آگ سے ڈرایا. جس میں کوئی نہ جائے گا سوائے بدبخت شخص کے. جس نے جھٹلایا اور منھ پھیرلیا. اور اس سے عنقریب صاحبِ تقویٰ کو محفوظ رکھا جائے گا. جو اپنے مال کو دے کر پاکیزگی کا اہتمام کرتا ہے. جب کہ اس کے پاس کسی کا کوئی احسان نہیں ہے جس کی جزا دی جائے. سوائے یہ کہ وہ خدائے بزرگ کی مرضی کا طلبگار ہے. اور عنقریب وہ راضی ہوجائے گا.

Tafseer

									راہ خدا میں انفاق اور بخشش کرنا ، محروم، خصوصاً آبرو مند لوگوں کی مالی امداد کرنا ، جو خلوصِ نیت سے لی ہوئی ہو، ایسے امور میں ہے جس کا قرآن مجید کی آیات میں بار بار ذکرہوا ہے ، اور اس کو ایمان کی نشانیوں سے لیاگیا ہے ۔ اس بارے میں اسلامی روایات بھی تاکید سے بھری ہوئی ہیں ، یہاں تک کہ وہ اس بات کی نشا دہی کرتی ہیں کہ اسلامی معاشرے اور تمدن میں مالی انفاق کرنا ، بشرطیکہ اس کا محرک پر وردگار کی رضاکے علاوہ اور کچھ نہ ہو ، اور وہ ہرقسم کی ریا کاری ، احسان جتانے اور آزار سے خالی ہو ، تو بہترین اعمال میں سے ہے۔ 
ہم اس بحث کو چند معنی خیز احادیث کے ذکر کے ساتھ مکمل کرتے ہیں ۔ 
۱۔ ایک روایت میں امام محمد باقر علیہ السلام سے آیاہے :
” ان احب الاعمال الی اللہ ادخال السرور علی الموٴمن ، شعبة مسلم او قضاء دینہ “
”خدا کے نزدیک محبوب ترین عمل ضرورت مند مومن کے دل کو خوش کرنا ہے ، اس طرح سے کہ اسے سیر کیا جائے یاا س کا قرض ادا کیا جائے ۔ 1
۲۔ ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے آیاہے : 
”من الایمان حسن الخلق ، و اطعام الطعام ، و اراقة الدماء“
حسن خلق ، کھانا کھلانا، اور خون بہانا ( راہ خدا میں قربانی) ایمان کے اجزاء میں سے ہیں ۔ 2
 ۳۔ ایک اور حدیث میں امام جعفر صادق علیہ السلام سے آیا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: 
” ما اری شیئاً یعدل زیادة الموٴمن الااطعامہ، وحق علی اللہ ایطعم من اطعم موٴمناً من طعام الجنة“: 
” میرے نزدیک کوئی چیز مومن کے دیدار اور زیارت کے برابر نہیں ہے سوائے اس کو کھانا کھلانے کے ۔ اور جو شخص کسی مومن کو کھانا کھلائے خدا پر لازم ہے کہ وہ اسے جنت کے کھانوں میں سے کھانا کھلائے “۔ 3
۴۔ ایک اور حدیث میں پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم سے آیاہے کہ ایک شخص نے آنحضرت صلی اللہ علیہ آلہ وسلم کی سواری کی مہار پکڑلی اور عرض کیا : اے رسول خدا صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! ای الاعمال افضل ؟ تمام اعمال میں کون سا عمل افضل ہے“۔ 
” اطعام الطعام ، و اطیاب الکلام “ : 
” لوگوں کو کھانا کھلانا اور خوش کلام ہونا “۔ 4
۵۔ اور آخر میں ایک حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے منقول ہے : 
”من عال اھل بیت من المسلمین یومھم ولیلتھم غفر اللہ ذنوبہ“ : 
” جو شخص مسلمانوں کے گھرانے کی ایک رات دن پذیرائی کرے تو خدا اس کے گناہوں کو بخش دیتاہے “۔ 5
خدا وندا ! ہم سب کو تو فیق دے تاکہ ہم اس عظیم کارِ خیر میں قدم رکھیں ۔ 
پروردگارا ! تمام اعمال میں ہمارے خلوص نیت میں اضافہ فرما۔ 
بار الہٰا ہم تجھ سے دعا کرتے ہیں کہ تو ہمیں اپنی نعمت و رحمت کا اس طرح سے مشمول قرار دے کہ تو بھی ہم سے خوش ہو اور ہم بھی خوش اور راضی ہوں ۔ 
آمین یا رب العالمین



1۔ ” بحا رالانوار“ جلد ۷۴ حدیث ۳۵ ص ۳۶۵۔
2۔ ” بحا رالانوار“ جلد ۷۴ حدیث ۳۵ ص ۳۶۵۔
3- «بحار الانوار»، جلد 74، صفحه 378، حدیث 79، «اصول کافى»، جلد 2، صفحه 203، باب اطعام المؤمن
4۔ ” بحار الانوار“ جلد ۷۴ ص۱۱۳۔
5 ۔ ” بحار الانوار“ جلد ۷۴ حدیث ۲۔