Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۲۔ اشقی الاولین“ و اشقی الاٰخرین“

										
																									
								

Ayat No : 11-15

: الشمس

كَذَّبَتْ ثَمُودُ بِطَغْوَاهَا ۱۱إِذِ انْبَعَثَ أَشْقَاهَا ۱۲فَقَالَ لَهُمْ رَسُولُ اللَّهِ نَاقَةَ اللَّهِ وَسُقْيَاهَا ۱۳فَكَذَّبُوهُ فَعَقَرُوهَا فَدَمْدَمَ عَلَيْهِمْ رَبُّهُمْ بِذَنْبِهِمْ فَسَوَّاهَا ۱۴وَلَا يَخَافُ عُقْبَاهَا ۱۵

Translation

ثمود نے اپنی سرکشی کی بنا پر رسول کی تذکیب کی. جب ان کا بدبخت اٹھ کھڑا ہوا. تو خدا کے رسول نے کہا کہ خدا کی اونٹنی اور اس کی سیرابی کا خیال رکھنا. تو ان لوگوں نے اس کی تکذیب کی اور اس کی کونچیں کاٹ ڈالیں تو خدا نے ان کے گناہ کے سبب ان پر عذاب نازل کردیا اور انہیں بالکل برابر کردیا. اور اسے اس کے انجام کا کوئی خوف نہیں ہے.

Tafseer

									شیعہ و سنی بزرگ علماء کی ایک جماعت منجملہ ثعلبی، واحدی ، ابن مردویہ، خطیب بغدادی ، طبری موصلی اور احمد حنبل وغیرہ نے اپنی اپنی اسناد کے ساتھ عمار یاسر ۻ جابر بن سمرہۻ اور عثمانۻ بن صہیب کی وساطت سے پیغمبر اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس طرح نقل کیا ہے کہ آپ نے علی علیہ السلام سے فرمایا: 
” یا علی ! اشقی الاولین عاقر الناقة، اشقی الاٰخرین قاتلک، و فی روایة من یخضب ھٰذہ من ھٰذا:
” اے علی ! پہلے لوگوں میں سے بد بخت ترین شخص وہ تھا جس نے ناقہ صالح کو قتل کیا ، اور پچھلے لوگوں میں سے بد بخت ترین آدمی تیرا قاتل ہے اور ایک روایت میں آیا ہے کہ جو اس سے رنگین کرے گا، ( جو اس طرف اشارہ ہے کہ تیری داڑھی کو تیرے سر کے خون سے خضاب کرے گا)۔ ۱
حقیقت میں ناقہٴ صالح کی کونچیں کاٹنے والے ” قدابن یوسف“ اور امیر المومنین  کے قاتل” عبد الرحمن بن ملجم مرادی“ کے درمیان ایک شباہت موجود تھی ، ان دونوں میں سے کسی کو بھی ذاتی رنجش نہیں تھی ، مسلمان بھی امیر المومنین علی  کی شہادت کے بعد جابرادر بیداد گر بنی امیہ کی حکومت کے زیر تسلط دردناک ترین عذابوں کے شاہد ہوئے ۔ 
قابل توجہ بات یہ ہے کہ ” حاکم جسکانی“ نے شواہد التنزیل“ میں اس سلسلہ میں بہت زیادہ روایت نقل کی ہیں ، جو مضمون و مطالب کے لحاظ سے اوپر والی روایت کے مشابہ ہیں ۲
 

 


۱۔ ” تفسیر نو ر الثقلین“ جلد ۵ ص ۵۸۷۔
۲۔ شواہد التنزیل “ جلد ۲ ص ۳۵ تا ۳۴۳۔