۱۔ قرآنی قسموں کا ان کے نتائج کے ساتھ ربط
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ وَالشَّمْسِ وَضُحَاهَا ۱وَالْقَمَرِ إِذَا تَلَاهَا ۲وَالنَّهَارِ إِذَا جَلَّاهَا ۳وَاللَّيْلِ إِذَا يَغْشَاهَا ۴وَالسَّمَاءِ وَمَا بَنَاهَا ۵وَالْأَرْضِ وَمَا طَحَاهَا ۶وَنَفْسٍ وَمَا سَوَّاهَا ۷فَأَلْهَمَهَا فُجُورَهَا وَتَقْوَاهَا ۸قَدْ أَفْلَحَ مَنْ زَكَّاهَا ۹وَقَدْ خَابَ مَنْ دَسَّاهَا ۱۰
آفتاب اور اس کی روشنی کی قسم. اور چاند کی قسم جب وہ اس کے پیچھے چلے. اور دن کی قسم جب وہ روشنی بخشے. اور رات کی قسم جب وہ اسے ڈھانک لے. اور آسمان کی قسم اور جس نے اسے بنایا ہے. اور زمین کی قسم اور جس نے اسے بچھایا ہے. اور نفس کی قسم اور جس نے اسے درست کیاہے. پھر بدی اور تقویٰ کی ہدایت دی ہے. بے شک وہ کامیاب ہوگیا جس نے نفس کو پاکیزہ بنالیا. اور وہ نامراد ہوگیا جس نے اسے آلودہ کردیا ہے.
ان گیارہ انتہائی قسموں کا ، اس حقیقت کے ساتھ جس کے لئے قسم کھائی ہے ، کیا رابطہ ہے ؟
ایسا دکھائی دیتا ہے کہ خدا وند تعالیٰ کی طرف سے اس حقیقت کو بیان کرنا مقصود ہے کہ میں نے تم انسانوں کی سعادت و خوش بختی کے لئے تمام مادی و معنوی و سائل فراہم کئے ہیں ۔
ایک طرف تو سورج اور چاند کے نور اور روشنی سے تمہاری زندگی کے میدان کو روشن کردیا ہے اور تمہاری رات دن کے حرکت و سکون کے نظام کو منظم کرکے زمین کو تمہاری زندگی کے لئے ہر جہت سے آمادہ کیا ہے ۔
دوسری طرف تمہاری روح کو تمام صلاحیتو ں کے ساتھ خلق کیا ہے ۔ بیدار و وجدان تمہیں عطا کیا ہے ، اور اشیاء کے حسن و قبح کا تمہیں الہام کیاہے ۔ اس بناء پر سعادت کی راہ کو طے کرنے کے لئے تمہارے پاس کسی چیز کی کمی نہیں ہے ۔ اس حال میں تم اپنے نفس کا تزکیہ کیوں نہیں کرتے؟ اور شیطان کے بہکانے میں کیوں آتے ہو؟