Tafseer e Namoona

Topic

											

									  رسول کی شائستگی کی شرطیںرسول کی شائستگی کی شرطیں

										
																									
								

Ayat No : 15-25

: التكوير

فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ ۱۵الْجَوَارِ الْكُنَّسِ ۱۶وَاللَّيْلِ إِذَا عَسْعَسَ ۱۷وَالصُّبْحِ إِذَا تَنَفَّسَ ۱۸إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ۱۹ذِي قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ ۲۰مُطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ ۲۱وَمَا صَاحِبُكُمْ بِمَجْنُونٍ ۲۲وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ ۲۳وَمَا هُوَ عَلَى الْغَيْبِ بِضَنِينٍ ۲۴وَمَا هُوَ بِقَوْلِ شَيْطَانٍ رَجِيمٍ ۲۵

Translation

تو میں ان ستاروں کی قسم کھاتا ہوں جو پلٹ جانے والے ہیں. چلنے والے اورحُھپ جانے والے ہیں. اور رات کی قسم جب ختم ہونے کو آئے. اور صبح کی قسم جب سانس لینے لگے. بے شک یہ ایک معزز فرشتے کا بیان ہے. وہ صاحبِ قوت ہے اور صاحبِ عرش کی بارگاہ کا مکین ہے. وہ وہاں قابل اطاعت اور پھر امانت دار ہے. اور تمہارا ساتھی پیغمبر دیوانہ نہیں ہے. اور اس نے فرشتہ کو بلند اُفق پر دیکھا ہے. اور وہ غیب کے بارے میں بخیل نہیں ہے. اور یہ قرآن کسی شیطان رجیم کا قول نہیں ہے.

Tafseer

									پانچ صفتیں جو مندرجہ بالاآیات میں جبرائیل امین کے لئے پیغمبر گرامی اسلام کی طرف خدا کے بھیجے ہو ئے قاصد کے عنوان کے ماتحت آئی ہے ، ان میں سے دو صفتیں ایسی ہیں جو ہر رسول اور فرستادہ خدا میں سلسلہ مراتب کو نظر میں کھتے ہوئے پائی جانی ضروری ہیں ۔
پہلی صفت کرامت اور عمدہ صفات ِنفسی کا حامل ہو نا ہے جو اس کو رسالت جیسے اہم کام کا اہل بنادے ۔ 
دوسری صفت قدرت کا حامل ہو نا ہے تاکہ اپنے اثر رسالت کو قاطعیت اور توانائی کےساتھ وہ آگے بڑھیں اور ہر قسم کے ضعف وکمزوری سے دور ہوں۔
اس کے بعد اس ہستی کی بارگاہ میں مقام و منزلت رکھنا جس کی رسالت کو اس نے قبول کیا ہے ( مکین ) تاکہ پیغامات کو اچھی طرح حاصل کرے اور اگر جواب کی ضرورت ہو تو بغیر کسی خوف و خطر کے اس کا ابلاغ کرے ۔ 
چوتھی صفت یہ کہ اگر امر رسالت اہمیت رکھتا ہوتو اس کے معاون ہو نے چاہئیے جو اس کی مدد کریں ۔ ایسے معاون جو اطاعت گذاراور فرمانبردار ہوں ۔ (مطاع)
آخری اس کا امانتدار ہونا تاکہ وہ لوگ جو اس رسول سے پیغام لیں اس پر اعتماد کریں اور اس کی گفتگو بے کم و کاست اس کا کلام شمار ہو جس کی طرف سے وہ آیاہے 
جب یہ پانچوں اصول پورے ہوں تو پھر حق رسالت و پیغمبری ادا ہو گا ۔ اسی لئے ہم پیغمبر اسلام کے حالات و آپ کی تاریخ زندگی میں دیکھتے ہیں کہ آپ اپنے بھیجے ہوئے ایلچیوں کواحتیاط کے ساتھ ، ان افراد میں سے جو ان صفات کو حامل ہوتے تھے ، منتخب کرتے تھے۔ جس کا ایک زندہ نمونہ جناب امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کی ذات ہے اور پیغمبر کی طر ف سورہ براٴت کی ابتدائی آیات کی مشرکین مکہ کے سامنے ان خاص حالات میں تبلیغ ہے جس کی تفصیل سورہٴ براٴت میں آچکی ہے ۔ 
حضرت فرماتے ہیں : ( رسولک ترجمان عقلک و کتابک ابلغ ما ینطق عنک ) تیرا بھیجا ہوا تیری عقل کو نمایا ں کرتا ہے اور تیرا خط تیری بات کا نہایت پر گو ناطق ہے ۔ ۱

۲۶۔ فاین تذہبون ۔
۲۷۔ اِن ھو الاّ ذکر للعالمین ۔
۲۸۔ لمَن شآء منکم اَن یستقیمَ۔
۲۹۔ وما تشآ ءُ ونَ اِلا اَن یشآءَ اللہُ ربُّ العالمین َ۔

ترجمہ
۲۶۔ پس تم کہاں جارہے ہو۔ 
۲۷۔ یہ قرآن عالمین کے لئے صرف نصیحت ہے ۔
۲۸۔ ان لوگوں کے لئے جو چاہتے ہیں کہ نصیحت حاصل کریں ۔ 
۲۹۔ اور تم نہیں چاہتے مگر وہ جو عالمین کا پر وردگار چاہے۔

 
۱۔ نہج البلاغہ،کلمات قصار، کلمہ ۳۰۱