Tafseer e Namoona

Topic

											

									  سورہ مزمل کے مضامین و مطالب

										
																									
								

Tafseer

									           سورمزمل کے مضامین و مطا لب 
 سورہ کی آیات کا لب و لہجہ یہ باتات ہے کہ یہ "مکی" سورتوں کے ساتھ ہم آہنگ ہے ۔ اس طرح اس کے "مدینہ" میں نزول کا احتمال ، جیسا کہ بعض نے کہا ہے، بعید نظر آتا ہے۔ لیکن آغاز و انجام کی آیات کے لب و لہجہ کا فرق یہ بتات ہے کہ ان آیات نکے درمیان قابلِ ملا خطہ، زمانہ کا فاصلہ تھا۔ جسے بعض مفسرین نے "آٹھ ماہ" بعض نے "ایک سال" اور بعض نے " دس سال" تک لکھا ہے۔ ؎ 1
 اس سورہ کی بہت سی آیات اس بات کی نشاندہی کرتی ہیں کہ یہ اس وقت نازل ہوا جب پیغمبر اپنی اعلانیہ دعوت کا آغاز کرچکے تھے اور مخالفین آپ کے مقابلہ میں مخالفت اور تکذیب کے لیے اٹھ کھڑے ہوۓ تھے ۔ لہذا پیغمبرؐ کو یہ حکم ملتا ہے کہ اس مرحلہ میں نرمی اور مدارات سے کام لیں۔
 اس لیے یہ احتمال کہ تمام سورہ پیغمبرؐ کی دعوت کے آغاز میں نازل ہوا ہے ، بہت بعید نظر آتا ہے، ممکن ہے اس کی ابتدائی آیات اس طرح کی ہوں ، لیکن مسلمہ طور پر اس کی تمام آیات اس طرح کی نہیں ہیں ، کیونکہ اس کی تعبیریں ، اسلامکے پھیلنے اور کم ازکم مکہ کی حد تک ، مخلفین کی مخالفت اور مبارزہ کٓے لیے قیام کی نشاندہی کرتی پے اور ہم جانتے ہیں کہ آغاز دعوت کے تین سالوں میں، اسی قسم کی کوئی چیز موجود نہیں تھی۔  
  وہ شانِ نزول، جو اس سورہ یا اس کی آیات کے ایک حصہ کے لیے، روایات میں بیان کی گئی ہے وہ  بھی مختلف ہے۔ 
 بعض روایات میں آیا ہے کہ جب پیغمبر  ؐ سب پہلے وحی ہوئی اور پیغام الٰہی پہنچا، آپ وحشت زدہ ہوکر خدیجہ کے پاس آۓ (چونکہ جسمانی ناراحتی محسوس کررہے تھے لہذا کچھ آرام کرنا چاہا) اور فرمایا :"مھے کپڑا اوڑھا دو" اس موقع پر جبرئیل نازل ہوۓ اور "یاایھا المزمل" کا پیغام پیغمبر کے لیے لاۓ۔ ؎ 2
 جبکہ دوسری آیات میں یہ آیا ہے کہ یہ واقعہ اس وقت کا ہے جبکہ پیغمبر اپنی دعوت کو آشکار اور ظاہر کر چکے تھے اور "قریش" "دارالزوہ" جمع ہوۓ تاکہ وہ پیغمبر کے معاملہ میں غور و فکر کریں اور ان سے مقابلہ کرنے کے لیے کسی نام اور شعار (نعرہ) کا انتخاب کریں ، بعض نے کہا کہ وہ "کاہن" ہے۔ لیکن ایک گروہ نے اس پیش نہاد کی مخالفت کی، بعض دوسروں نے کہا وہ "مجنوں" ہے ، لیکن پھر ایک گروہ نے مخلفت کی بعض نے "ساحر" کے عنوان کو ترجیح دی، تو اسے بھی انھوں نے قبول نہ کیا۔
 آخر کار انھوں نے کہا، جو کچھ بھی ہے "وہ دوستوں کے درمیان جدائی ڈالتا ہے (اس بناء پر ساحر ہے) اس کے بعد مشرکین اس جلسہ سے منتشر ہوگئے۔"
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎1      تفسیر  "درالمنشور" جلد 6 ص 276 و "مجمع البیان" جلد 10 ص 377
  ؎2      "روح العانی" جلد 28 ص 101، اور نورالثقلین جلد 5 ص 446
ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
 یہ بات پیغمبر تک پہنچی تو آپؐ نے اپنے آپ کو ایک چادر میں لپیٹ لیا(اور آرام کرنے لگے) اس وقت جبرئیل آۓ "یاایھاالمزل" اور "یااالمدثر" کو آپ کے پاس آکر پڑھا۔ ؎ 1 
 نتیجہ یہ ہے کہ جیسا کہ ہم نے پہلے بھی اشارہ کیا ہے ، یہ سورہ ظاہرًا مکہ میں نازل ہوئی ہے، اور یقینی طور پر اس کا ایک حصہ اسلام کے علانیہ اظہار ، اور نسبتًا مکہ میں نفوذ کے بعد نازل ہوئی ہے، اگرچہ یہ احتمال بھی ہے کہ سورہ کی کچھ ابتدائی آیات اول بعثت میں نازل ہوئی ہوں۔
 بہرحال اس سورہ کے مضامین کو پانچ حصوں میں تقسیم کیا جاسکتا ہے۔ 

 پہلا حصہ میں :- سورہ کی ابتدائی آیات ہیں ، جو پیغمبرؐ کو عبادت اور تلاوت کےلیے رات کو قیام کی دعوت دیتی ہیں، اور ایک سنگین اور سخت پروگرام کو قبول کرنے کے لیے آمادگی پر آمادہ کرتی ہیں۔ 
 دوسرا حصہ میں :- انھیں صبر و شکیبائی اور اس خاص علاقہ  میں  مخالفین کے ساتھ مقاومت و مقابلہ اور مدارات و نرمی کی دعوت دیتا ہے 
 تیسرا حصہ میں :- معاد و قیامت کے بارے میں مباحث ہیں، اور موسٰی بن عمران کو فرعون کی طرف بھیجنے اور اس کی سرکشی اور پھر  اس کے درد ناک عذاب کو بیان کیا گیا ہے۔
 چوتھے حصہ میں :- ان سخت احکام کو ، جو سورہ کی ابتدا میں، رات کے وقت قیام کے سلسلہ میں آۓ تھے۔ مسلمانوں کی مشکلات کی بناء پر ان میں تخفیف کرتا ہے۔
 پانچواں حصہ میں :- یعنی اس سورہ کے آخری حصہ میں دوبارہ تلاوت ِ قرآن ، نماز پڑھنے ، زکوٰۃ دینے اور اممہ کی راہ میں خرچ کرنے اور استغفار کرنے کی دعوت دیتا ہے۔

    ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
ـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ
  ؎1  "نورالثقلین" جلد 6 ص 276