قابلِ توجّہ بات یہ ہے کہ ان آیات میں قرآن کی توصیف چار صفات کے ساتھ کی گئی ہے ۔
وَلَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْأَقَاوِيلِ ۴۴لَأَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِينِ ۴۵ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِينَ ۴۶فَمَا مِنْكُمْ مِنْ أَحَدٍ عَنْهُ حَاجِزِينَ ۴۷وَإِنَّهُ لَتَذْكِرَةٌ لِلْمُتَّقِينَ ۴۸وَإِنَّا لَنَعْلَمُ أَنَّ مِنْكُمْ مُكَذِّبِينَ ۴۹وَإِنَّهُ لَحَسْرَةٌ عَلَى الْكَافِرِينَ ۵۰وَإِنَّهُ لَحَقُّ الْيَقِينِ ۵۱فَسَبِّحْ بِاسْمِ رَبِّكَ الْعَظِيمِ ۵۲
اور اگر یہ پیغمبر ہماری طرف سے کوئی بات گڑھ لیتا. تو ہم اس کے ہاتھ کو پکڑ لیتے. اور پھر اس کی گردن اڑادیتے. پھر تم میں سے کوئی مجھے روکنے والا نہ ہوتا. اور یہ قرآن صاحبانِ تقویٰ کے لئے نصیحت ہے. اور ہم جانتے ہیں کہ تم میں سے جھٹلانے والے بھی ہیں. اور یہ کافرین کے لئے باعث هحسرت ہے. اور یہ بالکل یقینی چیز ہے. لہذا آپ اپنے عظیم پروردگار کے نام کی تسبیح کریں.
پہلے کہتاہے : یہ رب العالمین کی طرف سے نازل کیاگیاہے ۔
اس کے بعد کہتاہے : یہ متقین کے لیے یادآوری اور تذکرّ ہے ۔
پھر کہتاہے : کافر وں کے لیے حسرت و ندامت کاباعث ہے ۔
اور آخر ی مرحلہ میںمزید کہتاہے : یہ حق الیقین ہے ۔
ان میں سے پہلی صفت تمام لوگوں کے لیے ہے ۔
دوسری صفت پر ہیزگاروں کے لیے ہے۔
تیسری صفت کفّار کے ساتھ مربُوط ہے ۔
اور چوتھی صفت خاصانِ خدا اور مُقرّبین سے مربُوط ہے ۔
خدا وندا!توخود جانتاہے کہ کوئی چیز سرمایہ ٔ یقین سے برتر نہیں ہے .ہمیں ایساایمان اوریقین مرحمت فر ماجو حق الیقین کامصداق ہو ۔
پر وردگار ا!قیامت کادن یوم الحسرت ہے ،ہمیں کم از کم ان لوگوںمیں سے قرار دے کہ جنہیں طاعتوں کی کمی پرحسرت ہو ، نہ کہ کثرتِ گناہ اورترک ِ طاعت پر حسرت و ندامت ہو ۔
بارِ الہٰا !ہمارا نامۂ اعمال ہمارے دائیں ہاتھ میں دینا اورہمیں اپنی جنت ِ عالیہ اورعیشہ ٔ راضیہ (پسندیدہ زندگی )میں داخل فر مانا ) ۔
آ مین یاربّ العالمین
سورہ حاقہ کااختتام
تفسیر نمونہ جلد ٢٤ کااختتام