تشخیص کی قدرت کا چھن جانا دلیل جبر نہیں
إِنَّ الَّذِينَ كَفَرُوا سَوَاءٌ عَلَيْهِمْ أَأَنْذَرْتَهُمْ أَمْ لَمْ تُنْذِرْهُمْ لَا يُؤْمِنُونَ ۶خَتَمَ اللَّهُ عَلَىٰ قُلُوبِهِمْ وَعَلَىٰ سَمْعِهِمْ ۖ وَعَلَىٰ أَبْصَارِهِمْ غِشَاوَةٌ ۖ وَلَهُمْ عَذَابٌ عَظِيمٌ ۷
اے رسول! جن لوگوں نے کفر اختیار کرلیا ہے ان کے لئے سب برابر ہے. آپ انہیں ڈرائیں یا نہ ڈرائیں یہ ایمان لانے والے نہیں ہیں. خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر گویا مہر لگا دی ہے کہ نہ کچھ سنتے ہیںاور نہ سمجھتے ہیں اور آنکھوں پر بھی پردے پڑ گئے ہیں. ان کے واسطےآخرت میں عذابِ عظیم ہے.
۱۔ تشخیص کی قدرت کا چھن جانا دلیل جبر نہیں : پہلا سوال جو یہاں پیدا ہوتا ہے وہ یہ ہے کہ گذشتہ آیت کے مطابق اگر خدا نے ان کے دلوں اور کانوں پر مہر لگا دی ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ہے تو پھر وہ مجبور ہیں کہ کفر پر باقی رہ جائیں تو کیا یہ جبر نہیں؟ قرآن میں اس آیت کی طرح اور بھی ایسی ہی آیات موجود ہیں ان حالات میں انہیں سزا دنے کے کیا معنی ہیں؟
اس سوال کا جواب خود قرآن نے دیا ہے اور وہ یہ کہ حق کے مقابلے میں ان لوگوں کا اصرار اور ہٹ دھرمی، ان کی طرف سے ظلم و ستم اور کفر کا استمرار و دوام ان کی حس شناخت پر پردہ پڑ جانے کا باعث بنتا ہے۔ سورہ نساء آیت ۱۵۵ میں ہے :
بل طبع اللہ علیھا بکفرھم
خدا وند عالم نے ان کے کفر کی وجہ سے ان کے دلوں پر مہر لگا دی ہے۔
سورہ مومن، آیت ۳۵ میں ہے :
کذلک یطبع اللہ علی کل قلب متکبر جبار۔
اس طرح خدا ہر متکبر اور ستم گر کے دل پر مہر لگا دیتا ہے۔
اسی طرح سورہ جاثیہ، آیت ۲۳ میں ہے :
افرایت من اتخذ الھہ ھواہ و اضلہ اللہ علی علم و ختم علی سمعہ و قلبہ و جعل علی بصرہ غشاوة۔
کیاآپ نے اس شخص کو دیکھا ہے جس نے ہوائے نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہے لہذا وہ گمراہ ہوگیا ہے اور خدا نے اس کے گوش و دل پر مہر لگادی ہے اور اس کی آنکھ پر پردہ ڈال دیا ہے۔
آپ دیکھ رہے ہیں کہ انسان کی حس تشخیص کا سلب ہو جانا اور آلات تمیز و معرفت کا بے کار جانا ان آیات میں چند ایک علل کا معلول شمار ہوا ہے۔ کفر ، تکبر، ستم، پیروی ہوا و ہوس سرکش، تعصب اور حق کے مقابلے میں اصرار، حقیقت میں یہ حالت انسان کے اعمال کا عکس العمل اور بازگشت ہے کوئی اور چیز نہیں۔
اصولا یہ ایک فطری امر ہے کہ اگر انسان ایک غلط کام کو مسلسل کرتا رہے تو آہستہ آہستہ اس سے مانوس ہوجاتا ہے پہلے ایک حالت ہے پھر وہ ایک عادت بن جاتی ہے گویا وہ روح انسانی کا جزو ہوجاتی ہے اور کبھی معاملہ یہاں تک پہنچ جاتا ہے کہ انسان کا پلٹ آنا ممکن نہیں رہتا لیکن اس نے جان بوجھ کر یہ راستہ اختیار کیا تھا لہذا عواقب و انجام کا بھی خود ذمہ داری ہے۔اوراس میں جبر کی کوئی بات نہیں بالکل اس شخص کی طرح جو خود اپنی آنکھ پھوڑے اور کان ضائع کردے کہ دیکھ سکے نہ سن سکے۔
اب اگر آپ دیکھیں کہ ان افعال کی نسبت خدا کی طرف دی گئی ہے تو اس کی وجہ یہ ہے کہ خدا نے اس قسم کے افعال میں ایسی خاصیت رکھی ہے (یہ بات خاص طور پر غور طلب ہے)۔
قوانین آفرینش سے اسی مفہوم کی پورے طور پرعکاسی ہوتی ہے۔ جو شخص صحیح اور سچے تقوی اور پاکیزگی کو اپنا پیشہ بنالے خدا وند عالم اس کی حس تمیز کو زیادہ قوی کردیتا ہے اور اسے خاص ادارک نظر اور روشن فکری عطا کرتا ہے۔ جیسے سورہ ٴ انفال آیة ۲۹ میں ہے :
یایھا الذین آمنوا ان تتقواللہ یجعل لکم فرقانا۔
اے ایمان والو ! اکر تم تقوی کو اپنا پیشہ قرار دو تو خدا وند عالم تمہیں فرقان (یعنی وسیلہٴ ادراک حق و باطل) عطا کرے گا۔
اس حقیقت کو ہم نے روز مرہ کی زندکی میں بھی آزمایا ہے۔ بعض ایسے اشخاص ہیں جو غلط کام شروع کرتے ہیں اور ابتداء میں خود معترف بھی ہوتے ہیں کہ سو فی صد غلط کاری او ربرائی کا ارتکاب کر رہے ہیں اور اسی بناء پر وہ اس کام سے دکھی ہیں۔ لیکن آہستہ آہستہ اس سے مانوس ہوجاتے ہیں تو وہ دکھ ان سے دور ہو جاتا ہے اور رفتہ رفتہ معاملہ یہاں تک پہنچتا ہے کہ نہ صرف انہیں اس کام سے کوئی تکلیف نہیں ہوتی بلکہ وہ اس پر خوش ہوتے ہیں حتی کہ اسے انسانی یا دینی ذمہ داری سمجھنے لگتے ہیں۔
حجاج ابن یوسف جودنیا کا سب سے بڑا سفاک اور ظالم انسان تھااس کے حالات میں لکھا ہے کہ وہ اپنے ہولناک مظالم اور سفاکیوں کی توجیہہ میں کہتا تھا :
” یہ لوگ گناہگار ہیں لہذا مجھ جیسا شخص ان پر مسلط رہنا چاہئے تاکہ ان پر ظلم کرے کیونکہ یہ اس کے مستحق ہیں“۔
گویا وہ جس قدر قتل، خونریزی اور ظلم کرتا تھا اس کے لئے اپنے آپ کو خدا کی طرف سے مامور سمجھتا تھا۔
کہتے ہیں چنگیز خاں کے ایک سپاہی نے ایران کے ایک سرحدی شہر میں تقریر کی اور کہنے لگا :
” کیا تمہارا یہ اعتقاد نہیں کہ خدا گنہگاروں پر عذاب نازل کرتا ہے ۔ ہم وہی عذاب الہی ہیں لہذا کسی قسم کے مقابلے کی کوشش نہ کرنا“۔