Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۱ابدی نمُونے

										
																									
								

Ayat No : 4-6

: الممتحنة

قَدْ كَانَتْ لَكُمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ فِي إِبْرَاهِيمَ وَالَّذِينَ مَعَهُ إِذْ قَالُوا لِقَوْمِهِمْ إِنَّا بُرَآءُ مِنْكُمْ وَمِمَّا تَعْبُدُونَ مِنْ دُونِ اللَّهِ كَفَرْنَا بِكُمْ وَبَدَا بَيْنَنَا وَبَيْنَكُمُ الْعَدَاوَةُ وَالْبَغْضَاءُ أَبَدًا حَتَّىٰ تُؤْمِنُوا بِاللَّهِ وَحْدَهُ إِلَّا قَوْلَ إِبْرَاهِيمَ لِأَبِيهِ لَأَسْتَغْفِرَنَّ لَكَ وَمَا أَمْلِكُ لَكَ مِنَ اللَّهِ مِنْ شَيْءٍ ۖ رَبَّنَا عَلَيْكَ تَوَكَّلْنَا وَإِلَيْكَ أَنَبْنَا وَإِلَيْكَ الْمَصِيرُ ۴رَبَّنَا لَا تَجْعَلْنَا فِتْنَةً لِلَّذِينَ كَفَرُوا وَاغْفِرْ لَنَا رَبَّنَا ۖ إِنَّكَ أَنْتَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ۵لَقَدْ كَانَ لَكُمْ فِيهِمْ أُسْوَةٌ حَسَنَةٌ لِمَنْ كَانَ يَرْجُو اللَّهَ وَالْيَوْمَ الْآخِرَ ۚ وَمَنْ يَتَوَلَّ فَإِنَّ اللَّهَ هُوَ الْغَنِيُّ الْحَمِيدُ ۶

Translation

تمہارے لئے بہترین نمونہ عمل ابراہیم علیھ السّلام اور ان کے ساتھیوں میں ہے جب انہوں نے اپنی قوم سے کہہ دیا کہ ہم تم سے اور تمہارے معبودوں سے بیزار ہیں - ہم نے تمہارا انکار کردیا ہے اور ہمارے تمہارے درمیان بغض اور عداوت بالکل واضح ہے یہاں تک کہ تم خدائے وحدہ لاشریک پر ایمان لے آؤ علاوہ ابراہیم علیھ السّلام کے اس قول کے جو انہوں نے اپنے مربّی باپ سے کہہ دیا تھا کہ میں تمہارے لئے استغفار ضرور کروں گا لیکن میں پروردگار کی طرف سے کوئی اختیار نہیں رکھتا ہوں. خدایا میں نے تیرے اوپر بھروسہ کیا ہے اور تیری ہی طرف رجوع کیا ہے اور تیری ہی طرف بازگشت بھی ہے. خدایا مجھے کفاّر کے لئے فتنہ و بلا نہ قرار دینا اور مجھے بخش دینا کہ تو ہی صاحب هعزت اور صاحبِ حکمت ہے. بیشک تمہارے لئے ان لوگوں میں بہترین نمونہ عمل ہے اس شخص کے لئے جو اللہ اور روزِ آخرت کا امیدوار ہے اور جو انحراف کرے گا خدا اس سے بے نیاز اور قابل حمد و ثنا ہے.

Tafseer

									عملی نمُونے ہمیشہ مُوٴ ثر ترین نمونے ہوتے ہیں ،چُونکہ عمل ہی انسان کے قول پر اس کے ایمان کی گہر ائی کاترجمان ہوتاہے ، اور جو بات دل سے نکلتی ہے لازمی طورپر دل پر اثر کرتی ہے ۔
ہمیشہ عظیم نمونے اوردستُور العمل ہی انسانوں کی زندگی میں اُن کی تربیّت کاموٴ ثر ذ ریعہ رہے ہیں اِسی بناء پر پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)اور آئمہ معصومین علیہم السلام کی اہم ترین شاخ کی اپنے عمل سے نشان دہی کیا کرتے تھے ،بناء بریں جب ”سنّت“ کے بارے میں گفتگُو ہو تی ہے تو یہ کہا جاتاہے کہ ” سنّت“معصُوم کے ” قول “ و” فعل “و” تقریر“ کوکہاجاتاہے ،یعنی معصُوم پیشو اؤں کاقول و فعل وسکُوت جب حُجت اور رہنما ہیں، یہی وجہ ہے کہ تمام پیغمبر وں اور آئمہ میںعصمت شرط ہے تاکہ وہ تمام امُور میں نمُونہ بن سکیں ۔
قر آن نے بھی اس ہم مسئلہ پر مُہر تصدیق ثبت کی اورتمام اُمور میں مومنین کے لیے نمونوں اور اسوہ یائے حسنہ کاتعارُف کر ایاہے ، ان میں سے زیربحث آیات میں ابر اہیم علیہ اسلام کے لیے نمُونہ اور اسوہ کے عُنو ان سے تعارُف کرایا ہے ۔
(اس بات پر توجّہ رکھنا چاہیئے کہ ” اُسوہ “ مصدری معنی رکھتاہے جو اتّباع کرنے اورعملی پیروی کے معنی میں ہے .اگرچہ فارسی کے روز مرّہ کے استعمال میںاُس شخص کے معنی میں ہے کہ جس کی اتّبا ع اورپیروی کرنی چاہیئے ) ۔
خطروں سے بھری ہُوئی جنگِ احزاب میں جبکہ مُسلمان سخت ترین آزمائش میں مُبتلا تھے ، اور ہمّت توڑ دینے و الے حو ادث نے قوی ترین افراد کوبھی لرزہ بر اندم کردیاتھا ،خُدا ئے تعالیٰ اس طوفان کے درمیا ن استقامت ، پا مردی ، ایمان ، نہیں اخلاص اور اطمینان ِ قلب کے نمُونہ کے طورپر اپنے پیغمبر(صلی اللہ علیہو آلہ وسلم)کا تعارُف کر اتاہے ، البتّہ یہ امرصرف میدانِ احزاب میں ہی منحصر نہیں تھابلکہ پیغمبر (صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم)ہرجگہ مُسلمانوں کے لیے ایک عظیم نمُونہ شمار ہوتے تھے ۔
” کو نو اد عاة الناس باعمالکم ولا تکونو ا دعاة بالسنتکم“ ( ۱)
یہ اشعار اورنعرہ جو امام جعفرصادق علیہ اسلام کی حدیث سے لیاگیاہے اس بات کی دلیل ہے کہ تمام سچّے مسلمانوں کوبھی اپنی جگہ پر دوسروں کے لیے نمونہ بنناچاہیئے ، اگریہ کام ہوجاتا تو اسلام عالمگیر ہوجاتا ۔
 ۱۔سفینتہ البحار ،جلد۲،صفحہ ۲۷۸ مادہٴ عمل ۔