٢۔ نجویٰ سے پہلے صدقہ کی تشریع اور پھر نسخ کافلسفہ
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ لَكُمْ وَأَطْهَرُ ۚ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ۱۲أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ ۚ فَإِذْ لَمْ تَفْعَلُوا وَتَابَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ۱۳
ایمان والو جب بھی رسول سے کوئی راز کی بات کرو تو پہلے صدقہ نکال دو کہ یہی تمہارے حق میں بہتری اور پاکیزگی کی بات ہے پھر اگر صدقہ ممکن نہ ہو تو خدا بہت بخشنے والا اور مہربان ہے. کیا تم اس بات سے ڈر گئے ہو کہ اپنی رازدارانہ باتوں سے پہلے خیرات نکال دو اب جب کہ تم نے ایسا نہیں کیا ہے اور خدا نے تمہاری توبہ قبول کرلی ہے تو اب نماز قائم کرو اور زکوِٰ ادا کرو اور اللہ و رسول کی اطاعت کرو کہ اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے.
یغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے نجویٰ کرنے سے پہلے وجوبِ صدقہ کی تشریع کیوں ہوئی اورپھر تھوڑی سی مدّت کے بعد وہ کیوں منسُوخ ہوگیا؟اس سوال کاجواب مندرجہ بالا آیت اوراس کی شان ِ نزول میں موجود قرائن سے اچھی طرح معلوم ہو سکتاہے ،مقصد ان بلند بانگ دعویٰ کرنے والوں کی آزمائش تھا ۔جو اس طریقہ سے پیغمبر (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)سے ایک خاص لگاؤ کااظہار کرتے تھے ،چنانچہ معلوم ہوگیا کہ یہ لگاؤ اورمحبت کااظہار صرف میں تھا جب تک نجویٰ مفت تھا لیکن جس وقت تھوڑا سامال خرچ کرناپڑگیاتومحبت کے اظہار کاجذبہ بھی سرد پڑگیا ۔ اس بات سے قطع نظراس حکم نے مسلمانوں پرہمیشہ اثر کیاہے اوران پرواضح کردیا کہ جب تک ضرورت نہ ہو پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور دوسرے عظیم اسلامی رہبروں کاگراں بہاوقت نجویٰ اور سرگوشی میں ضائع نہیں کرنا چاہیئے اوردوسرے لوگوں کی تکلیف کاباعث نہیں بننا چاہیئے ۔درحقیقت یہ آئندہ کی سرگوشیوں کو قابو میں لانے کا ایک عمل تھا ۔ اس بناپرمذکورہ حکم ابتداء میں ایک عارضی ووقتی پہلورکھتاتھا لیکن جب اس کامقصد پُورا ہوگیا تو وہ منسُوخ ہوگیاکیونکہ اس کو بر قرار رکھنابھی مشکل پیدا کردیتا ۔بعض اوقات ضروری مسائل پیش آ تے ہیں جن میں ضروری ہوتاہے کہ خصوصیات کے ساتھ انہیں پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی خدمت میں پیش کیاجائے ،چنانچہ اگرصدقہ کاحکم باقی رہ جاتا تواکثر اوقات ان ضرورتوں کے تقاضے پُورے نہ ہوتے ، اوراس طرح اسلامی معاشرہ کو نقصان پہنچتا ۔
مواردِ نسخ میںکلّی طورپر حکم ہمیشہ پہلے ہی سے محدُود اور وقتی پہلورکھتاتھا ۔ اگرچہ لوگ بعض اوقات اس معنی سے آگاہ نہ ہوتے اور اسے حکم سمجھ لیتے جوہمیشہ کے لیے ہو ۔