سوره مجادله/ آیه 12- 13
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا إِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَةً ۚ ذَٰلِكَ خَيْرٌ لَكُمْ وَأَطْهَرُ ۚ فَإِنْ لَمْ تَجِدُوا فَإِنَّ اللَّهَ غَفُورٌ رَحِيمٌ ۱۲أَأَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوَاكُمْ صَدَقَاتٍ ۚ فَإِذْ لَمْ تَفْعَلُوا وَتَابَ اللَّهُ عَلَيْكُمْ فَأَقِيمُوا الصَّلَاةَ وَآتُوا الزَّكَاةَ وَأَطِيعُوا اللَّهَ وَرَسُولَهُ ۚ وَاللَّهُ خَبِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ۱۳
ایمان والو جب بھی رسول سے کوئی راز کی بات کرو تو پہلے صدقہ نکال دو کہ یہی تمہارے حق میں بہتری اور پاکیزگی کی بات ہے پھر اگر صدقہ ممکن نہ ہو تو خدا بہت بخشنے والا اور مہربان ہے. کیا تم اس بات سے ڈر گئے ہو کہ اپنی رازدارانہ باتوں سے پہلے خیرات نکال دو اب جب کہ تم نے ایسا نہیں کیا ہے اور خدا نے تمہاری توبہ قبول کرلی ہے تو اب نماز قائم کرو اور زکوِٰ ادا کرو اور اللہ و رسول کی اطاعت کرو کہ اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے.
١٢۔یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا ِذا ناجَیْتُمُ الرَّسُولَ فَقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَیْ نَجْواکُمْ صَدَقَةً ذلِکَ خَیْر لَکُمْ وَ أَطْہَرُ فَِنْ لَمْ تَجِدُوا فَِنَّ اللَّہَ غَفُور رَحیم۔
١٣۔ أَ أَشْفَقْتُمْ أَنْ تُقَدِّمُوا بَیْنَ یَدَیْ نَجْواکُمْ صَدَقاتٍ فَِذْ لَمْ تَفْعَلُوا وَ تابَ اللَّہُ عَلَیْکُمْ فَأَقیمُوا الصَّلاةَ وَ آتُوا الزَّکاةَ وَ أَطیعُوا اللَّہَ وَ رَسُولَہُ وَ اللَّہُ خَبیر بِما تَعْمَلُون۔
ترجمہ
١٢۔ اے ایمان لانے والوں جس وقت تم چاہو کہ رسُول ِ خدا (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ نجویٰ کرو تواس سے پہلے (راہ خدامیں) صدقہ دے دو ۔ یہ تمہارے لیے بہتر اور زیادہ پاکیزہ بات ہے اوراگر استطاعت نہ رکھتے ہو تو خدا غفور ورحیم ہے ۔
١٣۔کیاڈرگئے ہو کہ فقیر ہوجاؤگے جوتم نے سرگوشی سے پہلے صدقہ دینے سے ہاتھ کھینچ لیا۔ اب جب کہ یہ کام تم نے نہیں کیا اورخدانے تمہاری توبہ کوقبول کرلیاہے ، تو نماز قائم کرو ،زکوٰة دو اورخُدا اوراس کے پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی اطاعت کرو ۔ (جان لو) کہ خدااس کام سے جسے تم انجام دیتے ہو باخبرہے ۔