تقویٰ اورنگاہ دُوررس کارابط
يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَآمِنُوا بِرَسُولِهِ يُؤْتِكُمْ كِفْلَيْنِ مِنْ رَحْمَتِهِ وَيَجْعَلْ لَكُمْ نُورًا تَمْشُونَ بِهِ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ ۲۸لِئَلَّا يَعْلَمَ أَهْلُ الْكِتَابِ أَلَّا يَقْدِرُونَ عَلَىٰ شَيْءٍ مِنْ فَضْلِ اللَّهِ ۙ وَأَنَّ الْفَضْلَ بِيَدِ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ ۚ وَاللَّهُ ذُو الْفَضْلِ الْعَظِيمِ ۲۹
ایمان والو اللہ سے ڈرو اور رسول پر واقعی ایمان لے آؤ تاکہ خدا تمہیں اپنی رحمت کے دہرے حّصے عطا کردے اور تمہارے لئے ایسا نور قرار دے دے جس کی روشنی میں چل سکو اور تمہیں بخش دے اور اللہ بہت زیادہ بخشنے والا اور مہربان ہے. تاکہ اہلِ کتاب کو معلوم ہوجائے کہ وہ فضل خدا کے بارے میں کوئی اختیار نہیں رکھتے ہیں اور فضل تمام تر خدا کے ہاتھ میں ہے وہ جسے چاہتا ہے عطا کردیتا ہے اور وہ بہت بڑے فضل کا مالک ہے.
قرآن مجید نے تقویٰ کے بہت سے آثار بیان کیے ہیں ،منجملہ ان کے ایک یہ ہے کہ انسان کی فکر اوراس کے دل سے پردے ہٹ جائیں۔ایمان اورتقویٰ کانگاہِ دُوررس سے جو رابط ہے ،اس کے متعلق قرآن کی دوسری آ یات میں اشارے ہیں ، سورہ انفال کی آ یت ٢٩ میں ہم پڑھتے ہیں: یا أَیُّہَا الَّذینَ آمَنُوا ِنْ تَتَّقُوا اللَّہَ یَجْعَلْ لَکُمْ فُرْقانا اے ایمان لانے والو!اگرتقویٰ اختیار کرواور گناہوں سے پرہیز کرو توخدا تمہارے لیے حق وباطل میں امتیاز کاذریعہ قرار دے گا سورہ بقرہ کی آ یت ٢٨٢ میں آ یاہے :
(وَ اتَّقُوا اللَّہَ وَ یُعَلِّمُکُمُ اللَّہُ ) خداکاخوف اختیار کروگے توخداتمہیں علم و دانش سے نوازے گا اورزیربحث آ یات میں بھی یہ معنی صراحت کے ساتھ آ ئے ہیں کہ اگرایمان لے آؤ اور تقویٰ اختیار کرو توخدا تمہارے لیے نور قرار دے گا جس کے سائے میں تم قدم بڑھاسکوگے ۔ان دونوں کارابط ،علاوہ معنوی پہلوؤں کے ،جنہیں ہم نہیں سمجھ سکتے ،تحلیل ِ عقلی کے نتیجے میں سمجھ میں آسکتاہے کیونکہ معرفت کے راستے میں سب سے بڑی رکاوٹ اورسب سے بڑاپر دہ جوانسان کے دل پر پڑا رہتاہے اوراسے حقائق کونہیں دیکھنے دیتا۔اس کی وہ سرکش خواہشات اورلاتعداد تمنائیں اور آرزوئیں ہیں اوردنیا کی چمک دمک میں اس کااُلجھاہوا ہوناہے جواسے صحیح فیصلہ کرنے کی اجازت نہیں دیتا اوراسے حقائق کاچہرہ نہیں دیکھنے دیتا ۔جس وقت ایمان اورتقویٰ کے زیر سایہ گرد وغبار بیٹھ جاتاہے اوررُوح ِانسانی پرچھائے ہوئے تاریک بادل چھٹ جاتے ہیں توپھر صفحہ ٔدل پرآفتاب حقیقت چمکتاہے اورحقائق تک اس کی دسترس ہوجاتی ہے اوراس کو ادراک کی لذّت نصیب ہوجاتی ہے یہ وہ لذّت ہے جوتعریف وتوصیف سے ماورا ہے ۔اس کے بعدانسان اپنی منزل ِ مقصود کی طرف قدم بڑھاتاہے ۔ جی ہاں یہ تقویٰ ہی ہے جوانسان کاآگاہ ہی بخشتاہے اورجس طرح علم اور آگاہی اسے تقویٰ سے ہم کنار کرتے ہیں ،یہ دونوں ایک دوسرے کے لیے متقابل تاثیر رکھتے ہیں ۔اسی لیے ہمیں مشہور حدیث میں ملتاہے :
لولا ان الشیاطین یحوطون علی قلوب بنی اٰدم لنظرواالی ملکوت المساوات
اگرشیاطین اِنسانی دلوں پرمسلّط نہ ہوجاتے تووہ ملکوت سموات کودیکھ سکتے ۔
اِس بات کے بہترادراک کے لیے ہم حضرت علی علیہ السلام کے ارشاد ِ گرامی سے استفادہ کرتے ہیں:
لا دین مع ھوی ۔ لاعقل من ھوی من اتبع ھواہ اعماہ واصمہ واذلہ واضلہ ۔
جہاں ہوائے نفس ہووہاں دین نہیں ہوتا۔ اسی طرح عقل اورہوائے نفس ایک جگہ جمع نہیں ہوتے ۔
جب انسان ہوائے نفس کی پیروی کرتاہے تووہ اسے اندھا اوربہرہ کردیتی ہے اوروہ ذلیل و گمراہ ہوجاتاہے ۔
پروردگارا!ہمیں ہوائے نفس سے محفوظ رکھ اور ہمیں تقویٰ اورنگاہ دُوررس عطافر ما۔
خداوندا!تمام رحمتیں تیرے قبضہ قدرت میں ہیں ہمیں ان سے محروم نہ کر ۔
بارالہٰا!ہمیں حق اورعدل وانصاف قائم کرنے کی توفیق عطافر مااور بیّنا ت سے استفادہ کے زیر سایہ مُنہ زور افراد کے مقابلہ میں کھڑے ہونے کاحوصلہ اورحریم ِ کتاب ومیزان کی پاسداری کی توفیق عطافرما۔
آمین یارب العالمین
سورہ حدید کا اختتام