سوره حدید/ آیه 25
لَقَدْ أَرْسَلْنَا رُسُلَنَا بِالْبَيِّنَاتِ وَأَنْزَلْنَا مَعَهُمُ الْكِتَابَ وَالْمِيزَانَ لِيَقُومَ النَّاسُ بِالْقِسْطِ ۖ وَأَنْزَلْنَا الْحَدِيدَ فِيهِ بَأْسٌ شَدِيدٌ وَمَنَافِعُ لِلنَّاسِ وَلِيَعْلَمَ اللَّهُ مَنْ يَنْصُرُهُ وَرُسُلَهُ بِالْغَيْبِ ۚ إِنَّ اللَّهَ قَوِيٌّ عَزِيزٌ ۲۵
بیشک ہم نے اپنے رسولوں کو واضح دلائل کے ساتھ بھیجا ہے اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان کو نازل کیا ہے تاکہ لوگ انصاف کے ساتھ قیام کریں اور ہم نے لوہے کو بھی نازل کیا ہے جس میں شدید جنگ کا سامان اور بہت سے دوسرے منافع بھی ہیں اور اس لئے کہ خدا یہ دیکھے کہ کون ہے جو بغیر دیکھے اس کی اور اس کے رسول کی مدد کرتا ہے اور یقینا اللہ بڑا صاحبِ قوت اور صاحبِ عزت ہے.
١۔یہ کہ نبرأھا مرجع ضمیر کیا چیزہے اس میں کئی احتمال ہیں، بعض اس کامرجع زمین اورانفس کوسمجھتے ہیں بعض مصیبت کواوربعض سب کو لیکن آ یت کے لب ولہجے پرتوجہ کرتے ہوئے پہلے معنی مناسب ہیں کیونکہ یہ کہنا چاہتاہے کہ زمین وآسمان اورتمہاری خلقت سے پہلے ان مصائب کی پیش بینی ہوئی ہے ۔
٢۔ تفسیر علی بن ابراہیم نقل نورالثقلین ،جلد ٥ ،صفحہ ٢٤٧۔
٣۔جلد ٢ صفحہ ٥١٥سے آگے اور سُورہ نساء کی آ یت ٧٨ ،٧٩ کے ذیل میں بھی ایک اور بحث تھی ،جوزیربحث آ یات کے ساتھ مناسبت رکھتی ہے ۔
٤۔رُوح البیان ،جلد ٩،صفحہ ٣٧٥۔
٥۔ نہج البلاغہ کلمات قصار کلمہ ٤٣٩۔
٦۔ قتیبہ بن سعید ایک محدّث ہے جومالک ابن انس سے روایت کرتاہے (منتہی الادب)
٧۔تفسیر ابوالفتوح رازی ،جلد ١١ صفحہ ٥٣۔ انہی معانی کی مثال تفسیررُوح البیان ،جلد ٩ ،صفحہ ٣٦٧ پرنقل کی گئی ہے ۔
٨۔ (الَّذینَ یَبْخَلُونَ...)بدل ہے کل مختارفخور ( تفسیر کشاف درذیل آیات زیربحث ) ضمناً توجہ کرنی چاہیئے کہ بدل اورمبدل منہ میں معرفہ اورنکرہ کاتطابق شرط نہیں ہے ۔