سوره حدید/ آیه 19- 20
وَالَّذِينَ آمَنُوا بِاللَّهِ وَرُسُلِهِ أُولَٰئِكَ هُمُ الصِّدِّيقُونَ ۖ وَالشُّهَدَاءُ عِنْدَ رَبِّهِمْ لَهُمْ أَجْرُهُمْ وَنُورُهُمْ ۖ وَالَّذِينَ كَفَرُوا وَكَذَّبُوا بِآيَاتِنَا أُولَٰئِكَ أَصْحَابُ الْجَحِيمِ ۱۹اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا لَعِبٌ وَلَهْوٌ وَزِينَةٌ وَتَفَاخُرٌ بَيْنَكُمْ وَتَكَاثُرٌ فِي الْأَمْوَالِ وَالْأَوْلَادِ ۖ كَمَثَلِ غَيْثٍ أَعْجَبَ الْكُفَّارَ نَبَاتُهُ ثُمَّ يَهِيجُ فَتَرَاهُ مُصْفَرًّا ثُمَّ يَكُونُ حُطَامًا ۖ وَفِي الْآخِرَةِ عَذَابٌ شَدِيدٌ وَمَغْفِرَةٌ مِنَ اللَّهِ وَرِضْوَانٌ ۚ وَمَا الْحَيَاةُ الدُّنْيَا إِلَّا مَتَاعُ الْغُرُورِ ۲۰
اور جو لوگ اللہ اور رسول پر ایمان لائے وہی خدا کے نزدیک صدیق اور شہید کا درجہ رکھتے ہیں اور ا ن ہی کے لئے ان کا اجر اور نور ہے اور جنہوں نے کفر اختیار کرلیا اور ہماری آیات کی تکذیب کردی وہی دراصل اصحاب جہنّم ہیں. یاد رکھو کہ زندگی دنیا صرف ایک کھیل, تماشہ, آرائش, باہمی تفاخراور اموال و اولاد کی کثرت کا مقابلہ ہے اور بس جیسے کوئی بارش ہو جس کی قوت نامیہ کسان کو خوش کردے اور اس کے بعد وہ کھیتی خشک ہوجائے پھر تم اسے زرد دیکھو اور آخر میں وہ ریزہ ریزہ ہوجائے اور آخرت میں شدید عذاب بھی ہے اور مغفرت اور رضائے الۤہیبھی ہے اور زندگانی دنیا تو بس ایک دھوکہ کا سرمایہ ہے اور کچھ نہیں ہے.
١٩۔وَ الَّذینَ آمَنُوا بِاللَّہِ وَ رُسُلِہِ أُولئِکَ ہُمُ الصِّدِّیقُونَ وَ الشُّہَداء ُ عِنْدَ رَبِّہِمْ لَہُمْ أَجْرُہُمْ وَ نُورُہُمْ وَ الَّذینَ کَفَرُوا وَ کَذَّبُوا بِآیاتِنا أُولئِکَ أَصْحابُ الْجَحیمِ۔
٢٠۔ اعْلَمُوا أَنَّمَا الْحَیاةُ الدُّنْیا لَعِب وَ لَہْو وَ زینَة وَ تَفاخُر بَیْنَکُمْ وَ تَکاثُر فِی الْأَمْوالِ وَ الْأَوْلادِ کَمَثَلِ غَیْثٍ أَعْجَبَ الْکُفَّارَ نَباتُہُ ثُمَّ یَہیجُ فَتَراہُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَکُونُ حُطاماً وَ فِی الْآخِرَةِ عَذاب شَدید وَ مَغْفِرَة مِنَ اللَّہِ وَ رِضْوان وَ مَا الْحَیاةُ الدُّنْیا ِلاَّ مَتاعُ الْغُرُور۔
ترجمہ
١٩۔وہ لوگ جوخدا اوراس کے رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر ایمان لے آئے وہ صدیقین وشہدا ہیں ۔ اپنے پروردگار کے پاس ،ان کے (اعمال )کااَجر اوران کانور ( ایمان ) ان کے لیے ہے اور جولوگ کافر ہوگئے اورانہوں نے ہماری آ یات کی تکذیب کی وہ اصحاب ِجحیم ہیں۔
٢٠۔جان لو کہ زندگی دُنیا صِرف کھیل کُود ،سرگرمی، تجمل پرستی اورتمہارے درمیان تفاخرہے اور مال واولاد میں اضافہ کاطلب کرنااس بارش کی طرح جس کاحاصل کسانوں کوتعجب میں ڈال دیتاہے ،پھروہ ( کھیتی ) خشک ہوجاتی ہے اس طرح کہ تو اسے زرد دیکھتاہے ۔پھر وہ خشک بھوسہ کی شکل میں تبدیل ہوجاتی ہے ۔آخرت میں یاعذاب ِ شدید ہے یامغفرت ورضائے الہٰی ،بہرحال زندگئی دنیا متاعِ غرور کے علاوہ اور کچھ نہیں ۔