Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ١۔ قرآن مجید کی خصُوصیت

										
																									
								

Ayat No : 75-82

: الواقعة

فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ ۷۵وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ ۷۶إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ ۷۷فِي كِتَابٍ مَكْنُونٍ ۷۸لَا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ ۷۹تَنْزِيلٌ مِنْ رَبِّ الْعَالَمِينَ ۸۰أَفَبِهَٰذَا الْحَدِيثِ أَنْتُمْ مُدْهِنُونَ ۸۱وَتَجْعَلُونَ رِزْقَكُمْ أَنَّكُمْ تُكَذِّبُونَ ۸۲

Translation

اور میں تو تاروں کے منازل کی قسم کھاکر کہتا ہوں. اور تم جانتے ہو کہ یہ قسم بہت بڑی قسم ہے. یہ بڑا محترم قرآن ہے. جسے ایک پوشیدہ کتاب میں رکھا گیا ہے. اسے پاک و پاکیزہ افراد کے علاوہ کوئی چھو بھی نہیں سکتا ہے. یہ رب العالمین کی طرف سے نازل کیا گیا ہے. تو کیا تم لوگ اس کلام سے انکار کرتے ہو. اور تم نے اپنی روزی یہی قرار دے رکھی ہے کہ اس کا انکار کرتے رہو.

Tafseer

									ان چار اوصاف سے جومندرجہ بالاآ یتوں میںقرآن کے بارے میں بیان ہوئے یہ نتیجہ اخذ کیاجاسکتاہے کہ قرآن کی عظمت ایک تواس کے موضوعات ومضامین کی وجہ سے ہے،دوسرے اس کے معانی کے عمق کی وجہ سے ہے ،تیسرے اس پاکیزگی کی وجہ سے ہے کہ نیک اورپاک افراد کے سواکوئی اس تک رسائی حاصل نہیں کرسکتا، اور چوتھے اس وجہ سے کہ یہ حد سے زیادہ تربیّتی پہلولیے ہوئے ہے ۔ اس لیے کہ ربّ العالمین کی طرف سے نازل ہوا ہے ۔ان چار وں موضوعات میں سے ہرموضوع مفصل بحث کامحتاج ہے جسے ہم نے مناسب آ یات کے ذیل میں بیان کیاہے ۔