سوره واقعه/ آیه 51- 56
ثُمَّ إِنَّكُمْ أَيُّهَا الضَّالُّونَ الْمُكَذِّبُونَ ۵۱لَآكِلُونَ مِنْ شَجَرٍ مِنْ زَقُّومٍ ۵۲فَمَالِئُونَ مِنْهَا الْبُطُونَ ۵۳فَشَارِبُونَ عَلَيْهِ مِنَ الْحَمِيمِ ۵۴هَٰذَا نُزُلُهُمْ يَوْمَ الدِّينِ ۵۶
اس کے بعد تم اے گمراہو اور جھٹلانے والوں. تھوہڑ کے درخت کے کھانے والے ہو گے. پھر اس سے اپنے پیٹ بھرو گے. پھر اس پر کھولتا ہوا پانی پیو گے. یہ قیامت کے دن ان کی مہمانداری کا سامان ہوگا.
٥١۔ثُمَّ ِنَّکُمْ أَیُّہَا الضَّالُّونَ الْمُکَذِّبُونَ۔
٥٢۔لَآکِلُونَ مِنْ شَجَرٍ مِنْ زَقُّومٍ۔
٥٣۔فَمالِؤُنَ مِنْہَا الْبُطُون۔
٥٤۔ فَشارِبُونَ عَلَیْہِ مِنَ الْحَمیمِ۔
٥٥۔ فَشارِبُونَ شُرْبَ الْہیمِ۔
٥٦۔ ہذا نُزُلُہُمْ یَوْمَ الدِّین۔
ترجمہ
٥١۔پھرتم اے تکذیب کرنے والے گمراہ لوگو۔
٥٢۔یقیناً زقوم کے درخت سے کھاؤ گے ۔
٥٣۔ اوراپنے شکموں کواس سے پُر کروگے ۔
٥٤۔اوراس پرسے جلانے والا پانی پیوگے ۔
٥٥۔اورپیاس کی بیماری میں مبتلا اُونٹوں کی طرح اس میں سے پیو گے ۔
٥٦۔یہ ہے قیامت میں ان کی پذیرائی کاذریعہ ۔