سوره واقعه/ آیه 41- 50
وَأَصْحَابُ الشِّمَالِ مَا أَصْحَابُ الشِّمَالِ ۴۱فِي سَمُومٍ وَحَمِيمٍ ۴۲وَظِلٍّ مِنْ يَحْمُومٍ ۴۳لَا بَارِدٍ وَلَا كَرِيمٍ ۴۴إِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذَٰلِكَ مُتْرَفِينَ ۴۵وَكَانُوا يُصِرُّونَ عَلَى الْحِنْثِ الْعَظِيمِ ۴۶وَكَانُوا يَقُولُونَ أَئِذَا مِتْنَا وَكُنَّا تُرَابًا وَعِظَامًا أَإِنَّا لَمَبْعُوثُونَ ۴۷أَوَآبَاؤُنَا الْأَوَّلُونَ ۴۸قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ ۴۹لَمَجْمُوعُونَ إِلَىٰ مِيقَاتِ يَوْمٍ مَعْلُومٍ ۵۰
اور بائیں ہاتھ والے تو ان کا کیا پوچھنا ہے. گرم گرم ہوا کھولتا ہوا پانی. کالے سیاہ دھوئیں کا سایہ. جو نہ ٹھنڈا ہو اور نہ اچھا لگے. یہ وہی لوگ ہیں جو پہلے بہت آرام کی زندگی گزار رہے تھے. اور بڑے بڑے گناہوں پر اصرار کررہے تھے. اور کہتے تھے کہ کیا جب ہم مرجائیں گے اور خاک اور ہڈی ہوجائیں گے تو ہمیں دوبارہ اٹھایا جائے گا. کیا ہمارے باپ دادا بھی اٹھائے جائیں گے. آپ کہہ دیجئے کہ اولین و آخرین سب کے سب. ایک مقرر دن کی وعدہ گاہ پر جمع کئے جائیں گے.
َ٤١۔ وَ أَصْحابُ الشِّمالِ ما أَصْحابُ الشِّمالِ۔
٤٢۔ فی سَمُومٍ وَ حَمیمٍ۔
٤٣۔وَ ظِلٍّ مِنْ یَحْمُومٍ۔
٤٤۔لا بارِدٍ وَ لا کَریمٍ۔
٤٥۔ ِنَّہُمْ کانُوا قَبْلَ ذلِکَ مُتْرَفینَ۔
٤٦۔ وَ کانُوا یُصِرُّونَ عَلَی الْحِنْثِ الْعَظیمِ۔
٤٧۔وَ کانُوا یَقُولُونَ أَ ِذا مِتْنا وَ کُنَّا تُراباً وَ عِظاماً أَ ِنَّا لَمَبْعُوثُونَ۔
٤٨۔أَ وَ آباؤُنَا الْأَوَّلُون۔
٤٩۔قُلْ ِنَّ الْأَوَّلینَ وَ الْآخِرینَ۔
٥٠۔ لَمَجْمُوعُونَ ِلی میقاتِ یَوْمٍ مَعْلُومٍ۔
ترجمہ
٤١۔ اوراصحاب شمال کیسے اصحاب شمال ہیں (کہ ان کانامۂ اعمال ان کے جُرم کی بناپر ان کے بائیں ہاتھ میں دیاجائے گا) ۔
٤٢۔وہ مارڈالنے والی ہواؤں اور جلانے والے پانیوں کے درمیان ہوں گے ۔
٤٣۔اورتہہ بہ تہہ اور آتش زاد ھویں کے سائے میں ۔
٤٤۔ایساسایہ جونہ ٹھنڈاہے نہ فائدہ مند۔
٤٥۔ وہ اس سے پہلے دُنیا میں مُست اورمغرور تھے ۔
٤٦۔اور بڑے بڑے گناہوں پراصرار کرتے تھے ۔
٤٧۔اورکہتے تھے کہ ہم جس وقت مَر گئے اور مٹی اورہڈی ہوگئے توکیا پھرقبروں سے نکالے جائیں گے ؟
٤٨۔یا ہمارے پہلے آ باء و اجداد ؟
٤٩۔کہہ دے کہ اوّلین وآخرین ۔
٥٠۔سب کے سب معیّن دن کی وعدہ گاہ میں جمع ہوں گے ۔