١۔ فناکی کیا حقیقت ہے ؟
كُلُّ مَنْ عَلَيْهَا فَانٍ ۲۶وَيَبْقَىٰ وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ ۲۷فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ۲۸يَسْأَلُهُ مَنْ فِي السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِي شَأْنٍ ۲۹فَبِأَيِّ آلَاءِ رَبِّكُمَا تُكَذِّبَانِ ۳۰
جو بھی روئے زمین پر ہے سب فنا ہوجانے والے ہیں. صرف تمہاری رب کی ذات جو صاحبِ جلال و اکرام ہے وہی باقی رہنے والی ہے. تو تم اپنے رب کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے. آسمان و زمین میں جو بھی ہے سب اسی سے سوال کرتے ہیں اور وہ ہر روز ایک نئی شان والا ہے. کی کس کس نعمت کو جھٹلاؤ گے.
ہم نے مندرجہ بالا آ یتوں میں پڑھا ہے کہ خدا کے علاوہ سب کچھ فناہو جائے گا ۔ یہ فنا ئے مطلق کے معانی میں نہیں ہے یہ نہیں ہے کہ رُوح انسانی بھی نابُود ہوجائے گی یاانسان کے جسم سے حاصل ہونے والی مٹی بھی ختم ہوجائے گی ۔ کیونکہ قرآن کی آیتیں قیامت کے دن تک کے لیے عالمِ برزخ کی تصریح کرتی ہیں ( ۱)۔
دوسری جانب وہ بارہا کہتاہے : مُرد ے قیامت میں قبروں سے اُٹھیں گے ( ۳)۔
بوسیدہ ہڈ یاں خدا کے حکم سے اپنے جسم پرلباسِ حیات پہنیں گی ( ۳)۔
یہ سب چیزیں اس امر کی گواہی دیتی ہیں کہ اس آ یت میں اوراس سے مشابہت رکھنے والی آیتوں میں فنا نظام جسم وجاں کے درہم برہم ہونے ، رِشتوں کے قطع ہونے اورعالم خلقت کے نظم وترتیب کے درہم بر ہم ہو کر ایک نئے عالم کی جگہ لینے کے معنوں میں ہے ۔
۱۔ (مومنون ۔ ١٠٠)۔
۲۔ (یٰسین ۔ ٥١)۔
۳۔(یٰسین ۔ ٧٩)۔