Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۳۔ علماء کی حیثیت و وقعت

										
																									
								

Ayat No : 18

: ال عمران

شَهِدَ اللَّهُ أَنَّهُ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ وَالْمَلَائِكَةُ وَأُولُو الْعِلْمِ قَائِمًا بِالْقِسْطِ ۚ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ الْعَزِيزُ الْحَكِيمُ ۱۸

Translation

اللہ خود گواہ ہے کہ اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے ملائکہ اور صاحبانِ علم گواہ ہیں کہ وہ عدل کے ساتھ قائم ہے- اس کے علاوہ کوئی خدا نہیں ہے اور وہ صاحبِ عزّت و حکمت ہے.

Tafseer

									اس آیت میں حقیقی علماء کو فرشتوں کا ہم پلہ قرار دیا گیا ہے اوریہ بات دوسروں کی نسبت علماء کے امتیاز کو ظاہرکرتی ہے آیت سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ علماء کا امتیاز یہ ہے کہ وہ اپنے علم کے ذریعے حقائق پرمطلع ہوتے ہیں اور اس طرح سے خدا کی یگانگے کا اعتراف کرتے ہیں جو سب سے بڑی حقیقت ہے ۔ 
واضح ہے کہ آیت تمام علماء کے بارے میں ہے اور وہ روایات جو اس آیت کے ذیل میں وارد ہوئی ہیں ان میں جو ” اولوا العلم “ سے آئمہ اطہار مراد لیا گیا ہے تو وہ اس لحاظ سے ہے کہ وہ حضرات اولوا العلم کے واخح ترین مصداق ہیں ۔ 
مرحوم طبرسی نے مجمع البیان میں اس آیت کی تفسیر کے ضمن میں جابر بن عبد اللہ انصاری کی وساطت سے پیغمبر اسلام کا ایک فرمان نقل کیا ہے کیا ہے ، آپ (ع) نے فرمایا : 
” ساعة من عالِم یتکی ء علیٰ فراشہ ینظر فی علمہ خیر مّن عبادہ العابد سبعین عاماً“۔
عالم کی وہ ایک ساعت وہ جس میں اپنے علم میں فکر ونظر کرنے کے لئے بستر پر تکیہ لگائے ایک عابد کی ستر سال کی عبادت سے بہتر ہے ۔ 
آیت میں ” لا ٓ الہ الاّ ھو“ کے جملے کا تکرار ہے ، یہ گویا اِ س طرف اشارہ ہے کہ جیسے ابتداء میں خدا فرشتوں اور علماء کی شہادت آئی ہے اِ س طرح جو شخص بھی سنے اسے چاہئیے کہ وہ بھی ان کی شہادت کے ساتھ ہم آواز ہوجائے اور معبود کی وحدت کی گواہی دے ۔ 
الہ الہ الا اللہ ، خدا کے حق کی ادائیگی ہے اور اس کی توحید کا اظہار ہے لہٰذا ” عزِیزٌ“ و حکیم“
یہ آیت ان آیات میں سے ہے جن پر رسول اکرم نے ہمیشہ خصوصی نظر رکھی اور آپ بار ابر مختلف مواقع پر اس کی تلاوت فرماتے رہے ۔زبیر بن عوام کا کہنا ہے عرفہ کی رات میں آنحضرت کی خدمت میں حاضر تھا ۔ میں نے سنا کہ آپ با ربار اس آیت کی تلاوت کرتے تھے ۔ ۱ دو اسماء الہٰی پر ختم ہوا ہے کیونکہ عدالت کا قیام قدرت وحکمت کا محتاج ہے اور وہ خدا ہی ہے جو پر چیز پر قادر ہے اور تمام چیزوں سے آگاہ ہے اس لئے وہی جہانِ ہستی میں عدالت قائم رکھ سکتا ہے ۔

 
۱۹۔ إِنَّ الدِّینَ عِنْدَ اللهِ الْإِسْلاَمُ وَمَا اخْتَلَفَ الَّذِینَ اٴُوتُوا الْکِتَابَ إِلاَّ مِنْ بَعْدِ مَا جَائَھُمْ الْعِلْمُ بَغْیًا بَیْنَھُمْ وَمَنْ یَکْفُرْ بِآیَاتِ اللهِ فَإِنَّ اللهَ سَرِیعُ الْحِسَابِ ۔
ترجمہ 
۱۹۔ اللہ کے نذدیک دین اسلام ( اور حق کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ) ہے ۔ جن کے پاس آسمانی کتاب تھی انہوں نے علم و آگاہی کے بعد بھی اختلاف پید اکیا اور وہ بھی اپنے درمیان ظلم و ستم کی بناء پر اور جو آیاتِ خدا سے کفر اختیار کرے تو ( خدا اس کا محاسبہ کرے گا کیونکہ ) خدا سریع الحساہے ۔

 
 

 
 
۱ تفسری مجمع البیان ، ج۲۔ص۴۲۱۔