سوره قمر/ آیه 4- 8
وَلَقَدْ جَاءَهُمْ مِنَ الْأَنْبَاءِ مَا فِيهِ مُزْدَجَرٌ ۴حِكْمَةٌ بَالِغَةٌ ۖ فَمَا تُغْنِ النُّذُرُ ۵فَتَوَلَّ عَنْهُمْ ۘ يَوْمَ يَدْعُ الدَّاعِ إِلَىٰ شَيْءٍ نُكُرٍ ۶خُشَّعًا أَبْصَارُهُمْ يَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْدَاثِ كَأَنَّهُمْ جَرَادٌ مُنْتَشِرٌ ۷مُهْطِعِينَ إِلَى الدَّاعِ ۖ يَقُولُ الْكَافِرُونَ هَٰذَا يَوْمٌ عَسِرٌ ۸
یقینا ان کے پاس اتنی خبریں آچکی ہیں جن میں تنبیہ کا سامان موجود ہے. انتہائی درجہ کی حکمت کی باتیں ہیں لیکن انہیں ڈرانے والی باتیں کوئی فائدہ نہیں پہنچاتیں. لہذا آپ ان سے منہ پھیر لیں جسن دن ایک بلانے والا (اسرافیل) انہیں ایک ناپسندہ امر کی طرف بلائے گا. یہ نظریں جھکائے ہوئے قبروں سے اس طرح نکلیں گے جس طرح ٹڈیاں پھیلی ہوئی ہوں. سب کسی بلانے والے کی طرف سر اٹھائے بھاگے چلے جارہے ہوں گے اور کفار یہ کہہ رہے ہوں گے کہ آج کا دن بڑا سخت دن ہے.
٤۔وَ لَقَدْ جاء َہُمْ مِنَ الْأَنْباء ِ ما فیہِ مُزْدَجَر۔
٥۔ حِکْمَة بالِغَة فَما تُغْنِ النُّذُرُ۔
٦۔فَتَوَلَّ عَنْہُمْ یَوْمَ یَدْعُ الدَّاعِ ِلی شَیْء ٍ نُکُرٍ۔
٧۔خُشَّعاً أَبْصارُہُمْ یَخْرُجُونَ مِنَ الْأَجْداثِ کَأَنَّہُمْ جَراد مُنْتَشِر۔
٨۔ مُہْطِعینَ ِلَی الدَّاعِ یَقُولُ الْکافِرُونَ ہذا یَوْم عَسِر۔
ترجمہ
٤۔ بُرائیوں سے عبرت حاصل کرنے کے لیے کافی خبر یں ان تک پہنچی ہیں ۔
٥۔ یہ آیتیں خُدا کی حکمتِ بالغہ ہیں لیکن ڈرانے والی چیزیں (ہٹ دھرم لوگوں کے لیے ) مفید نہیں ہیں ۔
٦۔ اس بناپر ان سے مُنہ پھیر لے اوراس دن کویاد کرجب خُدا کی طرف بُلانے والا لوگوں کو اعمال کے حساب کے لیے بلائے گا ۔
٧۔ وُہ قبروں سے نکلیں گے اس صُورت میں کہ ان کی آنکھیں وحشت کی وجہ سے جُھکی ہوئی ہوں گی اور وہ منتشر ٹڈی دل کی طرح بلا مقصد ہرطرف دوڑ رہے ہوں گے ۔
٨۔ درآنحالیکہ )(وحشت واضطراب کے زیراثر) اس بلانے والے کی طرف سراُٹھا کردیکھیں گے اورکافر کہیں گے کہ آج سخت اور درد ناک دن ہے ۔