سوره قمر/ آیه 1- 3
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ الْقَمَرُ ۱وَإِنْ يَرَوْا آيَةً يُعْرِضُوا وَيَقُولُوا سِحْرٌ مُسْتَمِرٌّ ۲وَكَذَّبُوا وَاتَّبَعُوا أَهْوَاءَهُمْ ۚ وَكُلُّ أَمْرٍ مُسْتَقِرٌّ ۳
قیامت قریب آگئی اور چاند کے دو ٹکڑے ہوگئے. اور یہ کوئی بھی نشانی دیکھتے ہیں تو منہ پھیر لیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ ایک مسلسل جادو ہے. اور انہوں نے تکذیب کی اور اپنی خواہشات کا اتباع کیا اور ہر بات کی ایک منزل ہوا کرتی ہے.
سورةُ القَمَر
بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمنِ الرَّحیمِ
١۔اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَ انْشَقَّ الْقَمَرُ۔
٢۔وَ ِنْ یَرَوْا آیَةً یُعْرِضُوا وَ یَقُولُوا سِحْر مُسْتَمِرّ۔
٣۔ وَ کَذَّبُوا وَ اتَّبَعُوا أَہْواء َہُمْ وَ کُلُّ أَمْرٍ مُسْتَقِرّ۔
ترجمہ
شروع اللہ کے نام سے جورحمان ورحیم ہے
١۔ قیامت قریب ہوئی اور چاند شق ہوگیا ۔
٢۔ جس وقت نشانی اورمُعجزہ کودیکھتے ہیں تو کہتے ہیں یہ سحر مستمر ہے ۔
٣۔ اُنہوںنے (خدا کی آیتوں کی ) تکذیب کی ،اپنی خواہش نفس کی پیروی کی اورہرامر کے لیے ایک قرار گاہ ہے ۔