١۔یہ سب سر وصدااسی کی طرف سے ہے
وَأَنَّ إِلَىٰ رَبِّكَ الْمُنْتَهَىٰ ۴۲وَأَنَّهُ هُوَ أَضْحَكَ وَأَبْكَىٰ ۴۳وَأَنَّهُ هُوَ أَمَاتَ وَأَحْيَا ۴۴وَأَنَّهُ خَلَقَ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنْثَىٰ ۴۵مِنْ نُطْفَةٍ إِذَا تُمْنَىٰ ۴۶وَأَنَّ عَلَيْهِ النَّشْأَةَ الْأُخْرَىٰ ۴۷وَأَنَّهُ هُوَ أَغْنَىٰ وَأَقْنَىٰ ۴۸وَأَنَّهُ هُوَ رَبُّ الشِّعْرَىٰ ۴۹
اور بیشک سب کی آخری منزل پروردگار کی بارگاہ ہے. اور یہ کہ اسی نے ہنسایا بھی ہے اور ----- فِلایا بھی ہے. اور وہی موت و حیات کا دینے والا ہے. اور اسی نے نر اور مادہ کا جوڑا پیدا کیا ہے. اس نطفہ سے جو رحم میں ڈالا جاتا ہے. اور اسی کے ذمہ دوسری زندگی بھی ہے. اور اسی نے مالدار بنایا ہے اور سرمایہ عطا کیا ہے. اور وہی ستارہ شعریٰ کا مالک ہے.
ان آ یات کے مباحث حقیقت میں اس معنی کی طرف ایک اشارہ ہین کہ اس عالم میں ہرقسم کی تدبیر اسی کی پاک ذات کی طرف کوٹتی ہے ،موت وحیات کے مسئلہ سے لے کر، بے مقدار نطفہ سے انسان کی پیچیدہ خلقت تک اوراسی طرح سے وہ گوناں گوں حادثات جوانسان کی زندگی میں پیش آتے ہیں، جواُسے کسی نہ کسی طرح سے رلاتے ہے یاہنساتے ہیں ،یہ سب کچھ اسی کی طرف سے ہیں ۔
آسمان میں درخشندہ ترین ستارے اسی کے فرمان اوراسی کی ربوبیت کے ماتحت ہیں، اورزمین میں انسانوں کی غنا اور بے نیازی بھی اسی کی پاک ذات کی طرف لوٹتی ہے ،اور طبعاً نشائہ آخرت بھی اسی کے فرمان سے ہے ،کیونکہ وہ بھی اس جہان کی زندگی کوجاری رکھنے کے سلسلہ میں ایک جدید زندگی ہے ۔
یہ بیان ایک طرف توخط ِتوحید کوواضح کرتاہے اور دوسری طرف سے خط ِ معاد وقیامت کو، کیونکہ رحم کے اندر ایک بے مقدار نطفہ سے انسان کوخلق کرنے والا، اس کونئے سرے سے زندگی عطاکر نے پر بھی قادر ہے ۔
دوسرے لفظوں میں یہ سب چیزیں کداکی ، توحید افعالی توحید ربوبیت کوبیان کرتی ہیں، ہاں!یہ سب سروصدا اور آواز ے اسی کی طرف سے ہیں ۔