Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۔"" خدا"" اور ""خلقِ خدا""کی طرف توجہ

										
																									
								

Ayat No : 15-19

: الذاريات

إِنَّ الْمُتَّقِينَ فِي جَنَّاتٍ وَعُيُونٍ ۱۵آخِذِينَ مَا آتَاهُمْ رَبُّهُمْ ۚ إِنَّهُمْ كَانُوا قَبْلَ ذَٰلِكَ مُحْسِنِينَ ۱۶كَانُوا قَلِيلًا مِنَ اللَّيْلِ مَا يَهْجَعُونَ ۱۷وَبِالْأَسْحَارِ هُمْ يَسْتَغْفِرُونَ ۱۸وَفِي أَمْوَالِهِمْ حَقٌّ لِلسَّائِلِ وَالْمَحْرُومِ ۱۹

Translation

بیشک متقی افراد باغات اور چشموں کے درمیان ہوں گے. جو کچھ ان کا پروردگار عطا کرنے والا ہے اسے وصول کررہے ہوں گے کہ یہ لوگ پہلے سے نیک کردار تھے. یہ رات کے وقت بہت کم سوتے تھے. اور سحر کے وقت اللہ کی بارگاہ میں استغفار کیا کرتے تھے. اور ان کے اموال میں مانگنے والے اور نہ مانگنے والے محروم افراد کے لئے ایک حق تھا.

Tafseer

									ان آ یات میں متقین اور محسین کے جواد صاف کیے گئے ہیں ،حقیقت میں ان کادوحصّوں میںخلاصہ کیا جاسکتاہے، خالق کی طرف توجہ وہ بھی ایسے لمحات میں جوہر لحاظ سے اس کے ساتھ راز دو نیاز اورحضورقلب کے لیے فراہم ہیں اور فکری مشغولیت کے عوامل ، اورذہنی مصر وفیات کم سے کم ہوتے ہیں، یعنی رات کے آخری حصّوں میں ۔
اور دوسرے حاجت مندوں کی حاجات کی طرف توجہ، چاہے وہ اپنی حاجت کوظاہر کریں یاپوشیدہ رکھیں ۔
یہی وہ مطلب ہے جس کے لیے قرآن کی آ یات میں بار ہانصیحت ووصیّت کی گئی ہے ، اوروہ آ یات جونمازوزکوٰة کویکے بعد دیگر ے بیان کرتی ہیں اوران دونوں پر تکیہ کرتی ہیں،ان میں اسی مسئلہ کی طرف اشارہ ہے ،کیونکہ نمازخالق کے ساتھ تعلق کا، نمایا ں ترین مظہر ہے ، اور زکوٰة مخلوقِ خدا کے ساتھ تعلق کی واضح ترین راہ ہے ۔