سوره «ق»/ آیه 41- 45
وَاسْتَمِعْ يَوْمَ يُنَادِ الْمُنَادِ مِنْ مَكَانٍ قَرِيبٍ ۴۱يَوْمَ يَسْمَعُونَ الصَّيْحَةَ بِالْحَقِّ ۚ ذَٰلِكَ يَوْمُ الْخُرُوجِ ۴۲إِنَّا نَحْنُ نُحْيِي وَنُمِيتُ وَإِلَيْنَا الْمَصِيرُ ۴۳يَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ عَنْهُمْ سِرَاعًا ۚ ذَٰلِكَ حَشْرٌ عَلَيْنَا يَسِيرٌ ۴۴نَحْنُ أَعْلَمُ بِمَا يَقُولُونَ ۖ وَمَا أَنْتَ عَلَيْهِمْ بِجَبَّارٍ ۖ فَذَكِّرْ بِالْقُرْآنِ مَنْ يَخَافُ وَعِيدِ ۴۵
اور اس دن کو غور سے سنو جس دن قدرت کا منادی اسرافیل قریب ہی کی جگہ سے آواز دے گا. جس دن صدائے آسمان کو سب بخوبی سن لیں گے اور وہی دن قبروں سے نکلنے کا دن ہے. بیشک ہم ہی موت و حیات دینے والے ہیں اور ہماری ہی طرف سب کی بازگشت ہے. اسی دن زمین ان لوگوں کی طرف سے شق ہوجائے گی اور یہ تیزی سے نکل کھڑے ہوں گے کہ یہ حشر ہمارے لئے بہت آسان ہے. ہمیں خوب معلوم ہے کہ یہ لوگ کیا کررہے ہیں اور آپ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہیں آپ قرآن کے ذریعہ ان لوگوں کو نصیحت کرتے رہیں جو عذاب سے ڈرنے والے ہیں.
٤١۔ وَ اسْتَمِعْ یَوْمَ یُنادِ الْمُنادِ مِنْ مَکانٍ قَریبٍ ۔
٤٢۔یَوْمَ یَسْمَعُونَ الصَّیْحَةَ بِالْحَقِّ ذلِکَ یَوْمُ الْخُرُوجِ ۔
٤٣۔ِنَّا نَحْنُ نُحْیی وَ نُمیتُ وَ ِلَیْنَا الْمَصیرُ ۔
٤٤۔یَوْمَ تَشَقَّقُ الْأَرْضُ عَنْہُمْ سِراعاً ذلِکَ حَشْر عَلَیْنا یَسیر ۔
٤٥۔ نَحْنُ أَعْلَمُ بِما یَقُولُونَ وَ ما أَنْتَ عَلَیْہِمْ بِجَبَّارٍ فَذَکِّرْ بِالْقُرْآنِ مَنْ یَخافُ وَعید ۔
ترجمہ
٤١۔کان دھرکے سُن اوردِن کا منتظر رہ جب ایک نداکرنے والا قریب کے مکان سے ندا دے گا ۔
٤٢۔وہ دن جس میں سب لوگ قیامت کے صیحہ (چیخ)کوحق کے ساتھ سُنیں گے ، وہ دن خروج کادن ہے ۔
٤٣۔ ہم ہی زندہ کرتے ہیں اورہم ہی مارتے ہیں اور ہماری طرف لوٹ کر آناہے ۔
٤٤۔وہ دن جس زمین ان کے اُوپر سے پھٹ جائے گی ، اور ( وہ قبروںسے )تیزی کے ساتھ باہر نکلیںگے ، اور یہ جمع کرناہمارے لیے آسمان ہے ۔
٤٥۔وہ جوکچھ کہتے ہیں ہم اُس سے اچھی طرح آگاہ ہیں، اور تم ان کومجبور کرنے پرمامور نہیںہو ،پس اس بنا پرتم تو قرآن کے ذ ریعہ ان لوگوں کوجومیرے عذاب سے ڈ رتے ہیں،نصیحت کرتے رہو ۔