Tafseer e Namoona

Topic

											

									  سوره «ق»/ آیه 19- 22

										
																									
								

Ayat No : 19-22

: ق

وَجَاءَتْ سَكْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ۖ ذَٰلِكَ مَا كُنْتَ مِنْهُ تَحِيدُ ۱۹وَنُفِخَ فِي الصُّورِ ۚ ذَٰلِكَ يَوْمُ الْوَعِيدِ ۲۰وَجَاءَتْ كُلُّ نَفْسٍ مَعَهَا سَائِقٌ وَشَهِيدٌ ۲۱لَقَدْ كُنْتَ فِي غَفْلَةٍ مِنْ هَٰذَا فَكَشَفْنَا عَنْكَ غِطَاءَكَ فَبَصَرُكَ الْيَوْمَ حَدِيدٌ ۲۲

Translation

اور موت کی بیہوشی یقینا طاری ہوگی کہ یہی وہ بات ہے جس سے تو بھاگا کرتا تھا. اور پھر صور پھونکا جائے گا کہ یہ عذاب کے وعدہ کا دن ہے. اور ہر نفس کو اس انداز سے آنا ہوگا کہ اس کے ساتھ ہنکانے والے اور گواہی دینے والے فرشتے بھی ہوں گے. یقینا تم اس کی طرف سے غفلت میں تھے تو ہم نے تمہارے پردوں کو اُٹھادیاہے اور اب تمہاری نگاہ بہت تیز ہوگئی ہے.

Tafseer

									١٩۔وَ جاء َتْ سَکْرَةُ الْمَوْتِ بِالْحَقِّ ذلِکَ ما کُنْتَ مِنْہُ تَحیدُ ۔
٢٠۔وَ نُفِخَ فِی الصُّورِ ذلِکَ یَوْمُ الْوَعیدِ ۔
٢١۔وَ جاء َتْ کُلُّ نَفْس مَعَہا سائِق وَ شَہید ۔
٢٢۔ لَقَدْ کُنْتَ فی غَفْلَةٍ مِنْ ہذا فَکَشَفْنا عَنْکَ غِطاء َکَ فَبَصَرُکَ الْیَوْمَ حَدید ۔

ترجمہ

١٩۔اورانجام کارسکرات موت حق کے ساتھ پہنچ جائے گی ،( اورانسان سے کہا جائے گا)یہ وہی چیزہے کہ جس سے تو بھاگا کرتاتھا ۔
٢٠۔اورصُور پھونکاجائے گا، وہی دن تووحشت ناک وعدہ کے پوراہونے کادن ہے ۔
٢١۔اور ہرانسان محشر میںوارد ہوگا، جب کہ ایک ہانکنے والا اورایک گواہ اس کے ساتھ ساتھ ہوگا ۔
٢٢۔(اس کوخطا ہوگا)تواس منظر (اورعظیم داد گاہ )سے غافل تھا، اورہم نے تیر ی آنکھ سے پردہ ہٹا دیاہے ،اورآج تیری نظر بہت تیز ہوگئی ہے ۔