سوره «ق»/ آیه 16- 18
وَلَقَدْ خَلَقْنَا الْإِنْسَانَ وَنَعْلَمُ مَا تُوَسْوِسُ بِهِ نَفْسُهُ ۖ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنْ حَبْلِ الْوَرِيدِ ۱۶إِذْ يَتَلَقَّى الْمُتَلَقِّيَانِ عَنِ الْيَمِينِ وَعَنِ الشِّمَالِ قَعِيدٌ ۱۷مَا يَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ إِلَّا لَدَيْهِ رَقِيبٌ عَتِيدٌ ۱۸
اور ہم نے ہی انسان کو پیدا کیا ہے اور ہمیں معلوم ہے کہ اس کا نفس کیا کیا وسوسے پیدا کرتا ہے اور ہم اس سے رگ گردن سے زیادہ قریب ہیں. جب کہ دو لکھنے والے اس کی حرکتوں کو لکھ لیتے ہیں جو داہنے اور بائیں بیٹھے ہوئے ہیں. وہ کوئی بات منہ سے نہیں نکالتا ہے مگر یہ کہ ایک نگہبان اس کے پاس موجود رہتا ہے.
١٦۔وَ لَقَدْ خَلَقْنَا الِْنْسانَ وَ نَعْلَمُ ما تُوَسْوِسُ بِہِ نَفْسُہُ وَ نَحْنُ أَقْرَبُ ِلَیْہِ مِنْ حَبْلِ الْوَریدِ ۔
١٧۔ِذْ یَتَلَقَّی الْمُتَلَقِّیانِ عَنِ الْیَمینِ وَ عَنِ الشِّمالِ قَعید ۔
١٨۔ ما یَلْفِظُ مِنْ قَوْلٍ ِلاَّ لَدَیْہِ رَقیب عَتید ۔
ترجمہ
١٦۔ہم نے انسان کوپیداکیاہے، اورہم اس کے نفس کے وسوسوں کوجانتے ہیں، اورہم اس کی شہ رگ سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں ۔
١٧۔اس وقت کو یاد کرو جب انسان کے ساتھ رہنے والے دونوں فرشتے دائیں اور بائیں طرف سے ، اس کے اعمال کولکھتے ہیں ۔
١٨۔انسان کو ئی بات زبان سے نہیں نکالتا ، مگراس کے پاس ہی ایک نگران فرشتہ اپنے کام کو انجام دینے کے لیے آ مادہ ہوتاہے ۔