سوره «ق»/ آیه 12- 15
كَذَّبَتْ قَبْلَهُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَأَصْحَابُ الرَّسِّ وَثَمُودُ ۱۲وَعَادٌ وَفِرْعَوْنُ وَإِخْوَانُ لُوطٍ ۱۳وَأَصْحَابُ الْأَيْكَةِ وَقَوْمُ تُبَّعٍ ۚ كُلٌّ كَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعِيدِ ۱۴أَفَعَيِينَا بِالْخَلْقِ الْأَوَّلِ ۚ بَلْ هُمْ فِي لَبْسٍ مِنْ خَلْقٍ جَدِيدٍ ۱۵
ان سے پہلے قوم نوح اصحاب رس اور ثمود نے بھی تکذیب کی تھی. اور قوم عاد, فرعون اور برادرانِ لوط نے بھی. اور اصحاب ایکہ اور قوم تبع نے بھی اور ان سب نے رسولوں کی تکذیب کی تو ہمارا وعدہ پورا ہوگیا. تو کیا ہم پہلی خلقت سے عاجز تھے ہرگز نہیں - تو پھر حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ نئی خلقت کی طرف سے شبہ میں پڑے ہوئے ہیں.
١٢۔کَذَّبَتْ قَبْلَہُمْ قَوْمُ نُوحٍ وَ أَصْحابُ الرَّسِّ وَ ثَمُودُ ۔
١٣۔وَ عاد وَ فِرْعَوْنُ وَ ِخْوانُ لُوطٍ ۔
١٤۔وَ أَصْحابُ الْأَیْکَةِ وَ قَوْمُ تُبَّعٍ کُلّ کَذَّبَ الرُّسُلَ فَحَقَّ وَعیدِ ۔
١٥۔ أَ فَعَیینا بِالْخَلْقِ الْأَوَّلِ بَلْ ہُمْ فی لَبْسٍ مِنْ خَلْقٍ جَدیدٍ ۔
ترجمہ
١٢۔اُن سے پہلے قوم نوح اوراصحاب الرس ( وہ قوم جویمامہ میں رہتی تھی، اوراُن کی طرف ایک پیغمبرآ یاتھا، جس کانام حنظلہ تھا)اورقوم ثمودنے بھی ( اپنے پیغمبروں کی تکذیب کی تھی ) ۔
١٣۔اوراسی طرح قوم عاد اور فرعون اورقومِ لوط۔
١٤۔اوراصحاب الایکہ (قومِ شعیب)اورقوم تبع ( جو سرزمین یمن میں رہتی تھی )ان میں سے ہر ایک نے خدا کے بھیجے ہُوئے پیغمبروں کی تکذیب کی ، اورعذاب کاوعدہ ان کے بارے میں پورا ہو کررہا ۔
١٥۔کیاہم پہلی خلقت اسے عاجز آ گئے ہیں( کہ معاد کی خلقت پر قادرنہ ہوں)لیکن وہ(ان تمام واضح و روشن دلائل کے باوجود)پھر بھی نئی خلقت میں شک وتردید رکھتے ہیں ۔