Tafseer e Namoona

Topic

											

									  سوره حجرات/ آیه 16- 18

										
																									
								

Ayat No : 16-18

: الحجرات

قُلْ أَتُعَلِّمُونَ اللَّهَ بِدِينِكُمْ وَاللَّهُ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ ۚ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ۱۶يَمُنُّونَ عَلَيْكَ أَنْ أَسْلَمُوا ۖ قُلْ لَا تَمُنُّوا عَلَيَّ إِسْلَامَكُمْ ۖ بَلِ اللَّهُ يَمُنُّ عَلَيْكُمْ أَنْ هَدَاكُمْ لِلْإِيمَانِ إِنْ كُنْتُمْ صَادِقِينَ ۱۷إِنَّ اللَّهَ يَعْلَمُ غَيْبَ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَاللَّهُ بَصِيرٌ بِمَا تَعْمَلُونَ ۱۸

Translation

آپ کہہ دیجئے کہ کیا تم خدا کو اپنا دین سکھارہے ہو جب کہ وہ آسمان اور زمین کی ہر شے سے باخبر ہے اور وہ کائنات کی ہر چیز کا جاننے والا ہے. یہ لوگ آپ پر احسان جتاتے ہیں کہ اسلام لے آئے ہیں تو آپ کہہ دیجئے کہ ہمارے اوپراپنے اسلام کا احسان نہ رکھو یہ خدا کا احسان ہے کہ اس نے تم کو ایمان لانے کی ہدایت دے دی ہے اگر تم واقعا دعوائے ایمان میں سچے ہو. بیشک اللہ آسمان و زمین کے ہر غیب کا جاننے والا اور وہ تمہارے تمام اعمال کا بھی دیکھنے والا ہے.

Tafseer

									١٦۔ قُلْ أَ تُعَلِّمُونَ اللَّہَ بِدینِکُمْ وَ اللَّہُ یَعْلَمُ ما فِی السَّماواتِ وَ ما فِی الْأَرْضِ وَ اللَّہُ بِکُلِّ شَیْء ٍ عَلیم ۔
١٧۔یَمُنُّونَ عَلَیْکَ أَنْ أَسْلَمُوا قُلْ لا تَمُنُّوا عَلَیَّ ِسْلامَکُمْ بَلِ اللَّہُ یَمُنُّ عَلَیْکُمْ أَنْ ہَداکُمْ لِلْیمانِ ِنْ کُنْتُمْ صادِقینَ ۔
١٨۔ ِنَّ اللَّہَ یَعْلَمُ غَیْبَ السَّماواتِ وَ الْأَرْضِ وَ اللَّہُ بَصیر بِما تَعْمَلُونَ ۔

ترجمہ

١٦۔کہہ دے کیاتم خداکو اپنے ایمان سے باخبر کر رہے ہو، حالانکہ وہ ان تمام چیزوں کو،جو آسمانوں اور زمین میں جانتاہے، اورخدا ہرچیز سے آگاہ ہے ۔
١٧۔وہ تجھ پر یہ احسان جتارہے ہیں، کہ وہ اسلام لے آ ئے ہیں کہہ دے ، تم اپنے اسلام کو مُجھ پراحسان نہ جتلاؤ ، بلکہ یہ تو خدا نے پر احسان کیا ہے کہ تمہیں ایمان کی طرف ہدایت کی ہے ، اگر تم (ایمان کے دعوے میں)سچّے ہو ۔
١٨۔خدا آسمانوں اور زمین کے غیب کوجانتاہے، اور جو کچھ تم انجام دیتے ہو، اس کوبھی دیکھ رہاہے ۔
شانِ نزول مفسرین کی ایک جماعت نے یہ کہا ہے کہ اگر گزشتہ آ یات کے نزول دکے بعد بدو عربوںکاایک گروہ پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی خدمت میں آ یااورقسم کھاکر کہنے لگاکہ وہ ایمان کے دعو ے میں سچّے ہیں،اوران کی ظاہروباطن ایک ہے، اس پرپہلی زیربحث آ یت نازل ہوئی اورانہیں آگاہ کیاکہ قسم کھانے کی ضرورت نہیں ہے خداسب کے ظاہر و باطن کو جانتاہے( ١) ۔
 ١۔"" مجمع البیان "" "" المیزان "" "" رُوح البیان"" و"" تفسیر قرطبی""۔