Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ٢۔ پیغمبر(ص) کی قبر کے ساس آ واز بلند کرنا

										
																									
								

Ayat No : 1-5

: الحجرات

بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُقَدِّمُوا بَيْنَ يَدَيِ اللَّهِ وَرَسُولِهِ ۖ وَاتَّقُوا اللَّهَ ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ عَلِيمٌ ۱يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تَرْفَعُوا أَصْوَاتَكُمْ فَوْقَ صَوْتِ النَّبِيِّ وَلَا تَجْهَرُوا لَهُ بِالْقَوْلِ كَجَهْرِ بَعْضِكُمْ لِبَعْضٍ أَنْ تَحْبَطَ أَعْمَالُكُمْ وَأَنْتُمْ لَا تَشْعُرُونَ ۲إِنَّ الَّذِينَ يَغُضُّونَ أَصْوَاتَهُمْ عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ أُولَٰئِكَ الَّذِينَ امْتَحَنَ اللَّهُ قُلُوبَهُمْ لِلتَّقْوَىٰ ۚ لَهُمْ مَغْفِرَةٌ وَأَجْرٌ عَظِيمٌ ۳إِنَّ الَّذِينَ يُنَادُونَكَ مِنْ وَرَاءِ الْحُجُرَاتِ أَكْثَرُهُمْ لَا يَعْقِلُونَ ۴وَلَوْ أَنَّهُمْ صَبَرُوا حَتَّىٰ تَخْرُجَ إِلَيْهِمْ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ ۚ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ ۵

Translation

ایمان والو خبردار خدا و ر رسول کے سامنے اپنی بات کو آگے نہ بڑھاؤ اور اللہ سے ڈرو بیشک اللہ ہر بات کا سننے والا اور جاننے والا ہے. ایمان والو خبردار اپنی آواز کو نبی کی آواز پر بلند نہ کرنا اور ان سے اس طرح بلند آواز میں بات بھی نہ کرنا جس طرح آپس میں ایک دوسرے کو پکارتے ہو کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارے اعمال برباد ہوجائیں اور تمہیں اس کا شعور بھی نہ ہو. بیشک جو لوگ رسول اللہ کے سامنے اپنی آواز کو دھیما رکھتے ہیں یہی وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو خدا نے تقویٰ کے لئے آزمالیا ہے اور ان ہی کے لئے مغفرت اور اجر عظیم ہے. بیشک جو لوگ آپ کو حجروں کے پیچھے سے پکارتے ہیں ان کی اکثریت کچھ نہیں سمجھتی ہے. اور اگر یہ اتنا صبر کرلیتے کہ آپ نکل کر باہر آجاتے تو یہ ان کے حق میں زیادہ بہتر ہوتا اور اللہ بہت بخشنے والا اور مہربان ہے.

Tafseer

									علماء اورمفسرین کی ایک جماعت نے یہ کہاہے کہ زیربحث آ یات جس طرح پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی زندگی میں ان کے پاس آواز بلند کرنے سے منع کرتی ہیںاسی طرح ان کی وفات کے بعد کے زمانہ پر بھی اثر انداز ہوتی ہیں( ١) ۔ 
اگران کی مراد آ یت کی عبارتوں کاشمول ہے توظاہر آ یت رسول اللہ کے زمانہ حیات کے ساتھ مخصوص ہے ، کیونکہ یہ آیت کہتی ہے کہ اپنی آواز کوآپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم)کی آواز سے بلند نہ کرو، اور یہ اسی صُورت میں ہوگا . جب پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) حیاتِ جسمانی رکھتے ہوں اوریہ بات کررہے ہوں ۔
اوراگراس سے مراد مناط وفلسفۂ حکم ہو، جواس قسم کے موقع پر ظاہر وواضح ہے، اوراہل عرف نگارِ خصوصیت کرتے ہوں، توپھر تعمیم مذکور بعید نظر نہیں آ تی کیونکہ یہ بات تو مسلم ہے کہ یہاں ہدف و مقصد پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی ساخت قدس میں ادب و احترام کی رعایت ہے .اس بناء پر جب پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی قبر کے پاس آواز بلند کرناایک قسم کی بے احترامی اورہتک حرمت ہوتوبلا شک وشبہ یہ بات جایٔز ہے نہیں ہے، سوائے اس کے کہ وہ اذان نماز کی صورت میں ہو، یاتلاوت قرآن یاخُطبہ اوراس کے مانند دوسرے بیانات ہوں تواس قسم کے مواقع پر نہ تو پیغمبر کی زندگی میں یہ بات ممنوع ہے اور نہ ہی وفات کے بعد۔ 
اصول کافی میں ایک حدیث میں امام باقر علیہ السلام سے اُس واقعہ کے بارے میں منقول ہے، جو وفات امام حسن مجتبیٰ علیہ السلام کے موقع پراس ممانعت کے سلسلہ میں، جوحضرت کے جوار پیغمبر(صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) میں دفن ہونے کے بارے میں عائشہ نے کی تھی ،اوراس پر ایک چیخ پکار بلند ہوئی توامام حسین علیہ السلام یاایّھاالّذین اٰمنوالا ترفعوا اصواتکم فوق صوت النبی ... کی آ یت سے استدلال کیا اوررسولِ خداسے یہ جُملہ نقل فرمایا: ان اللہ حرم من المؤ منین امواناً ماحرم منھم احیاء خدانے مو منین کے لیے جوکچھ حال حیات میں حرام کیاہے وہ ان کی موت کے بعد بھی حرام کیاہے ( ٢) ۔ 
یہ حدیث آ یت کے مفہو م کی عمو میت کی ایک اورگواہ ہے ۔
١۔ ""رُوح المعانی "" جلد ٢٦ صفحہ ١٢٥۔
٢۔اصول کافی مطابق نقل نورالثقلین ،جلد٥،صفحہ ٨٠۔