سوره فتح/ آیه 22- 25
وَلَوْ قَاتَلَكُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا لَوَلَّوُا الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يَجِدُونَ وَلِيًّا وَلَا نَصِيرًا ۲۲سُنَّةَ اللَّهِ الَّتِي قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ ۖ وَلَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّهِ تَبْدِيلًا ۲۳وَهُوَ الَّذِي كَفَّ أَيْدِيَهُمْ عَنْكُمْ وَأَيْدِيَكُمْ عَنْهُمْ بِبَطْنِ مَكَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَكُمْ عَلَيْهِمْ ۚ وَكَانَ اللَّهُ بِمَا تَعْمَلُونَ بَصِيرًا ۲۴هُمُ الَّذِينَ كَفَرُوا وَصَدُّوكُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرَامِ وَالْهَدْيَ مَعْكُوفًا أَنْ يَبْلُغَ مَحِلَّهُ ۚ وَلَوْلَا رِجَالٌ مُؤْمِنُونَ وَنِسَاءٌ مُؤْمِنَاتٌ لَمْ تَعْلَمُوهُمْ أَنْ تَطَئُوهُمْ فَتُصِيبَكُمْ مِنْهُمْ مَعَرَّةٌ بِغَيْرِ عِلْمٍ ۖ لِيُدْخِلَ اللَّهُ فِي رَحْمَتِهِ مَنْ يَشَاءُ ۚ لَوْ تَزَيَّلُوا لَعَذَّبْنَا الَّذِينَ كَفَرُوا مِنْهُمْ عَذَابًا أَلِيمًا ۲۵
اور اگر یہ کفاّر تم سے جنگ کرتے تو یقینا منہ پھیر کر بھاگ جاتے اور پھر انہیں کوئی سرپرست اور مددگار نصیب نہ ہوتا. یہ اللہ کی ایک سنّت ہے جو پہلے بھی گزر چکی ہے اور تم اللہ کے طریقہ میں ہرگز کوئی تبدیلی نہیں پاؤ گے. وہی خدا ہے جس نے کفاّر کے ہاتھوں کو تم سے اور تمہارے ہاتھوں کو ان سے سرحد مکہ کے اندر تمہارے فتح پاجانے کے بعد بھی روک دیا اور اللہ تمہارے اعمال سے خوب باخبر ہے. یہی وہ لوگ ہیں جنہوں نے کفر اختیار کیا اور تم کو مسجد الحرام میں داخل ہونے سے روک دیا اور قربانی کے جانوروں کو روک دیا کہ وہ اپنی منزل پر پہنچنے سے رکے رہے اور اگر صاحبِ ایمان مرد اور باایمان عورتیں نہ ہوتیں جن کو تم نہیں جانتے تھے اور نادانستگی میں انہیں بھی پامال کر ڈالنے کا خطرہ تھا اور اس طرح تمہیں لاعلمی کی وجہ سے نقصان پہنچ جاتا تو تمہیں روکا بھی نہ جاتا - روکا اس لئے تاکہ خدا جسے چاہے اسے اپنی رحمت میں داخل کرلے کہ یہ لوگ الگ ہوجاتے تو ہم کفّار کو دردناک عذاب میں مبتلا کردیتے.
٢٢۔وَ لَوْ قاتَلَکُمُ الَّذینَ کَفَرُوا لَوَلَّوُا الْأَدْبارَ ثُمَّ لا یَجِدُونَ وَلِیًّا وَ لا نَصیراً ۔
٢٣۔سُنَّةَ اللَّہِ الَّتی قَدْ خَلَتْ مِنْ قَبْلُ وَ لَنْ تَجِدَ لِسُنَّةِ اللَّہِ تَبْدیلاً ۔
٢٤۔وَ ہُوَ الَّذی کَفَّ أَیْدِیَہُمْ عَنْکُمْ وَ أَیْدِیَکُمْ عَنْہُمْ بِبَطْنِ مَکَّةَ مِنْ بَعْدِ أَنْ أَظْفَرَکُمْ عَلَیْہِمْ وَ کانَ اللَّہُ بِما تَعْمَلُونَ بَصیراً ۔
٢٥۔ ہُمُ الَّذینَ کَفَرُوا وَ صَدُّوکُمْ عَنِ الْمَسْجِدِ الْحَرامِ وَ الْہَدْیَ مَعْکُوفاً أَنْ یَبْلُغَ مَحِلَّہُ وَ لَوْ لا رِجال مُؤْمِنُونَ وَ نِساء مُؤْمِنات لَمْ تَعْلَمُوہُمْ أَنْ تَطَؤُہُمْ فَتُصیبَکُمْ مِنْہُمْ مَعَرَّة بِغَیْرِ عِلْمٍ لِیُدْخِلَ اللَّہُ فی رَحْمَتِہِ مَنْ یَشاء ُ لَوْ تَزَیَّلُوا لَعَذَّبْنَا الَّذینَ کَفَرُوا مِنْہُمْ عَذاباً أَلیما۔
ترجمہ
٢٢۔اگرکفّار (سر زمین حدیبیہ میں ) تم سے جنگ کرتے توبہت جلد بھاگ کھڑ ے ہوتے ، اور پھر کوئی اپنا ولی اور یا رو یاور نہ پاتے ۔
٢٣۔یہ سُنّتِ الہٰی ہے جوپہلے بھی یہی تھی ، اورتو کبھی بھی سنت الہٰی میں تغیر وتبد یلی نہ پائے گا ۔
٢٤۔وہ وہی تو ہے جس نے ان کاہاتھ تم سے اور تمہاراہاتھ اُن سے مکّہ میں روک لیا، بعد اس کے کہ تمہیںان پر فتح یاب کردیاتھا ، اورجوکچھ تم انجام دیتے ہو خدا اُسے دیکھ رہاہے ۔
٢٥۔وہ ایسے لوگ ہیں جو کافر ہوگئے ہیں، اور تمہیںمسجد الحرام ( کی زیارت )سے روکا ہے ،اور تمہاری قربانیوں کے قُر بان گاہ کی جگہ تک پہنچنے سے مانع ہُوئے ، اوراگر یہ بات نہ ہوتی کہ صاحب ایمان مرد اور عورتیںتمہاری بے خبری میں تمہارے پائوں تلے روند ے جائیں گے ، اور اس طرح سے ایک عار اور عیب لاشعوری طورپر تمہیں لگ جائے گا ،( توخداہر گزاس جنگ سے مانع نہ ہوتا )مقصد یہ تھا کہ خداجسے چاہے اپنی رحمت میں داخل کرے ،اوراگر مومنین اورکفّار (مکّہ میں)ایک دوسرے سے جدا اورالگ ہوجاتے ، توہم کا فروںپر درد ناک عذاب کرتے ۔