١۔بے مثال آرام وسکون
هُوَ الَّذِي أَنْزَلَ السَّكِينَةَ فِي قُلُوبِ الْمُؤْمِنِينَ لِيَزْدَادُوا إِيمَانًا مَعَ إِيمَانِهِمْ ۗ وَلِلَّهِ جُنُودُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَكَانَ اللَّهُ عَلِيمًا حَكِيمًا ۴
وہی خدا ہے جس نے مومنین کے دلوں میں سکون نازل کیا ہے تاکہ ان کے ایمان میں مزید اضافہ ہوجائے اور اللہ ہی کے لئے زمین و آسمان کے سارے لشکر ہیں اور وہی تمام باتوں کا جاننے والا اور صاحبِ حکمت ہے.
اگرایمان کا ثمر اور نتیجہ اسی سکون وآرام کے مسئلہ کے سوا اور کچھ نہ ہوتا ، تویہی کافی تھا کہ انسان اپنے پُورے وجودکے ساتھ اس کااستقبال کرے ، جبکہ اس میں دوسرے ثمرات و برکات بھی موجود ہیں ۔
مؤ منین اور بے ایمان لوگوں کی حالت کامطالعہ اس حقیقت کوواضح کردیتاہے ، کہ دوسرا گروہ ایک دائمی اضطراب اور پر یشانی کی حالت میں بسر کرتاہے ، جب کہ پہلا گروہ بمیثا ل اطمینانِ قلب سے بہرہ مند ہے ، اوراس کے سائے میں ہے ۔
ہر گز خدا کے سواکسِی سے نہیں ڈ رتا : وَ لا یَخْشَوْنَ أَحَداً ِلاَّ اللَّہَ (احزاب ، ٣٩) ۔
ان کے اہنی ارادے میں اس کی اور اُس کی ملامت وسرزنش ہرگز اثر انداز نہیں ہوتی (وَ لا یَخافُونَ لَوْمَةَ لائِم) ( مائدہ ،٥٤) ۔
جوکچھ ہاتھ سے چلا جائے اس پر ہر گز غمگین نہیں ہوتے اور جوکچھ ان کے پاس ہوتاہے اس سے زیادہ دل بستگی نہیں رکھتے ، اور یہ دونوںاصول اس بات کاسبب بنتے ہیں کہ گذشتہ اور آیندہ کے لحاظ سے ان کاوحی سُکون متزلزل نہ ہو (لِکَیْلا تَأْسَوْا عَلی ما فاتَکُمْ وَ لا تَفْرَحُوا بِما آتاکُم) ( حدید . ٢٣) ۔
اور بالا آخر سخت اور شدید حوادث کے مقابلہ میں ہرگز بھی سست اورکمزور نہیں ہوتے ، اور کسی غم کواپنے پاس بھٹکنے نہیں دیتے ۔
گویا مومنین ہمیشہ اپنے دشمن سے برتر رہتے ہیں : وَ لا تَہِنُوا وَ لا تَحْزَنُوا وَ أَنْتُمُ الْأَعْلَوْنَ ِنْ کُنْتُمْ مُؤْمِنینَ (آل عمران . ١٣٩) ۔
مؤ من میدان ِ جوادث میں خود کو تنہا نہیں سمجھتا،خداکے لطف وحمایت کے ہاتھ کوہمیشہ اپنے سر پرمحسوس کرتاہے اور فر شتوں کی مدد نصرت کواپنے وجود میں محسُوس کرتاہے ۔
جب کہ بے ایمان لوگوں پر چھائی ہوئی بے چینی اوراضطراب ان کی گفتار ورفتار سے .خصوصاً جب حوادث کے طوفان چل رہے ہوں . پورے طو ر پر محسوس ہوتاہے ۔