سوره محمد/ آیه 20- 24
وَيَقُولُ الَّذِينَ آمَنُوا لَوْلَا نُزِّلَتْ سُورَةٌ ۖ فَإِذَا أُنْزِلَتْ سُورَةٌ مُحْكَمَةٌ وَذُكِرَ فِيهَا الْقِتَالُ ۙ رَأَيْتَ الَّذِينَ فِي قُلُوبِهِمْ مَرَضٌ يَنْظُرُونَ إِلَيْكَ نَظَرَ الْمَغْشِيِّ عَلَيْهِ مِنَ الْمَوْتِ ۖ فَأَوْلَىٰ لَهُمْ ۲۰طَاعَةٌ وَقَوْلٌ مَعْرُوفٌ ۚ فَإِذَا عَزَمَ الْأَمْرُ فَلَوْ صَدَقُوا اللَّهَ لَكَانَ خَيْرًا لَهُمْ ۲۱فَهَلْ عَسَيْتُمْ إِنْ تَوَلَّيْتُمْ أَنْ تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ وَتُقَطِّعُوا أَرْحَامَكُمْ ۲۲أُولَٰئِكَ الَّذِينَ لَعَنَهُمُ اللَّهُ فَأَصَمَّهُمْ وَأَعْمَىٰ أَبْصَارَهُمْ ۲۳أَفَلَا يَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ أَمْ عَلَىٰ قُلُوبٍ أَقْفَالُهَا ۲۴
اور جو لوگ ایمان لے آئے ہیں وہ یہ کہتے ہیں کہ آخر جہاد کے بارے میں سورہ کیوں نہیں نازل ہوتا اور جب سورہ نازل ہوگیا اور اس میں جہاد کا ذکر کردیا گیا تو آپ نے دیکھا کہ جن کے دلوں میں مرض تھا وہ آپ کی طرف اس طرح دیکھتے رہ گئے جیسے موت کی سی غشی طاری ہوگئی ہو تو ان کے واسطے ویل اور افسوس ہے. ان کے حق میں بہترین بات اطاعت اور نیک گفتگو ہے پھر جب جنگ کا معاملہ طے ہوجائے تو اگر خدا سے اپنے کئے وعدہ پر قائم رہیں تو ان کے حق میں بہت بہتر ہے. تو کیا تم سے کچھ بعید ہے کہ تم صاحبِ اقتدار بن جاؤ تو زمین میں فساد برپا کرو اور قرابتداروں سے قطع تعلقات کرلو. یہی وہ لوگ ہیں جن پر خدا نے لعنت کی ہے اور ان کے کانوں کو بہرا کردیا ہے اور ان کی آنکھوں کو اندھا بنادیا ہے. تو کیا یہ لوگ قرآن میں ذرا بھی غور نہیں کرتے ہیں یا ان کے دلوں پر قفل پڑے ہوئے ہیں.
۲۰۔وَ یَقُولُ الَّذینَ آمَنُوا لَوْ لا نُزِّلَتْ سُورَةٌ فَإِذا اٴُنْزِلَتْ سُورَةٌ مُحْکَمَةٌ وَ ذُکِرَ فیہَا الْقِتالُ رَاٴَیْتَ الَّذینَ فی قُلُوبِہِمْ مَرَضٌ یَنْظُرُونَ
إِلَیْکَ نَظَرَ الْمَغْشِیِّ عَلَیْہِ مِنَ الْمَوْتِ فَاٴَوْلی لَہُمْ ۔
۲۱۔طاعَةٌ وَ قَوْلٌ مَعْرُوفٌ فَإِذا عَزَمَ الْاٴَمْرُ فَلَوْ صَدَقُوا اللَّہَ لَکانَ خَیْراً لَہُم۔
۲۲۔فَہَلْ عَسَیْتُمْ إِنْ تَوَلَّیْتُمْ اٴَنْ تُفْسِدُوا فِی الْاٴَرْضِ وَ تُقَطِّعُوا اٴَرْحامَکُمْ ۔
۲۳۔اٴُولئِکَ الَّذینَ لَعَنَہُمُ اللَّہُ فَاٴَصَمَّہُمْ وَ اٴَعْمی اٴَبْصارَہُمْ ۔
۲۴۔اٴَ فَلا یَتَدَبَّرُونَ الْقُرْآنَ اٴَمْ عَلی قُلُوبٍ اٴَقْفالُہا ۔
ترجمہ
۲۰۔اور موٴ خین کہتے ہیں کہ (جہاد کے بارے میں ) کوئی سُورت کیوں ناز ل نہیں ہوتی ؟ لیکن جب کوئی محکم سُورت نازل ہوتی ہے کہ جس میں جہاد کاذکرہو تو بیماردِل منافقوں کودیکھے گا کہ تیری طرف اس طرح دیکھیں گے ، جس طرح کسی کومت آنے لگے ، پس موت اور تبا ہی ان کے لیے بہر ہے ۔
۲۱۔لیکن اگروہ اطاعت کریں اور سنجیدہ اور شائستہ بات کریں تویہ ان کے لیے بہتر ہے پھر جب جہاد کاحتمی حکم آ جائے تو اگر یہ لوگ خدا سے سچے رہیں ( اور صدق وصفا کاراستہ اختیار کریں ) توان کے حق میں بہتر ہے ۔
۲۲۔لیکن اگرتم رو گرادنی اختیار کرو توتم سے سوائے زمین میں فساد اورقطعی رحمی کے اورکیا توقع رکھّی جاسکتی ہے ۔
۲۳۔یہ ایسے لوگ ہیںجنہیں خدانے اپنی رحمت سے دُور کردیا ہے ، ان کے کانوں کو بہرہ اوران کی آنکھوں کواندھا کردیا ہے ۔
۲۴۔کیایہ لوگ قرآن میں غور وفکرنہیں کرتے یا پھر ان کے دلوں پرتالے پڑے ہُوئے ہیں ۔