۳۔ خراب نه ہونے والے مشرو بات
مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ ۖ فِيهَا أَنْهَارٌ مِنْ مَاءٍ غَيْرِ آسِنٍ وَأَنْهَارٌ مِنْ لَبَنٍ لَمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهُ وَأَنْهَارٌ مِنْ خَمْرٍ لَذَّةٍ لِلشَّارِبِينَ وَأَنْهَارٌ مِنْ عَسَلٍ مُصَفًّى ۖ وَلَهُمْ فِيهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ وَمَغْفِرَةٌ مِنْ رَبِّهِمْ ۖ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِي النَّارِ وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ ۱۵
اس جنّت کی صفت جس کا صاحبانِ تقویٰ سے وعدہ کیا گیا ہے یہ ہے کہ اس میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جس میں کسی طرح کی بو نہیں ہے اور کچھ نہریں دودھ کی بھی ہیں جن کا مزہ بدلتا ہی نہیں ہے اور کچھ نہریں شراب کی بھی ہیں جن میں پینے والوں کے لئے لذّت ہے اور کچھ نہریں صاف و شفاف شہد کی ہیں اور ان کے لئے ہر طرح کے میوے بھی ہیں اور پروردگار کی طرف سے مغفرت بھی ہے تو کیا یہ متقی افراد ان کے جیسے ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ جہّنم میں رہنے والے ہیں اور جنہیں گرما گرم پانی پلایا جائے گا جس سے آنتیں ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گی.
بہشت کی نہروں کی ایک مرتبہ توغیراٰسن (اس کی بُونہیں بدلی ) کے ساتھ اور دوسری مرتبہ ” لھ یتغیر طعمہ“(اس کاذائقہ نہیں بدلا) کے ساتھ تعریف وتوصیف کی گئی ہے ، جس سے پتہ چلتا ہے کہ بہشت کے مشرو بات اور غذ ائیں ہمیشہ تر و تازہ رہیں گی ، پہلے دن کی سی تاز گی ․ آخرایساکیوں نہ ہو ، جب کہ خوارک کاتغیر اوراس میں خرابی جراثیم کی وجہ سے عمل میں آ تی ہے ، اگریہ دُنیا میں نہ ہوتے توکسی چیز میں کوئی خرابی پیدانہ ہوتی اور ہر چیز اپنی اصلی حالت پر باقی رہتی ، ،لیکن چونکہ بہشت خرابی پیدا کرنے والوں کی جگہ نہیں ہے ،لہذا وہاں ہرچیزپاک، صاف ،صحیح وسالم اور تر وتازہ رہے گی ۔