Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۱۔ بہشتی چار نہریں

										
																									
								

Ayat No : 15

: محمد

مَثَلُ الْجَنَّةِ الَّتِي وُعِدَ الْمُتَّقُونَ ۖ فِيهَا أَنْهَارٌ مِنْ مَاءٍ غَيْرِ آسِنٍ وَأَنْهَارٌ مِنْ لَبَنٍ لَمْ يَتَغَيَّرْ طَعْمُهُ وَأَنْهَارٌ مِنْ خَمْرٍ لَذَّةٍ لِلشَّارِبِينَ وَأَنْهَارٌ مِنْ عَسَلٍ مُصَفًّى ۖ وَلَهُمْ فِيهَا مِنْ كُلِّ الثَّمَرَاتِ وَمَغْفِرَةٌ مِنْ رَبِّهِمْ ۖ كَمَنْ هُوَ خَالِدٌ فِي النَّارِ وَسُقُوا مَاءً حَمِيمًا فَقَطَّعَ أَمْعَاءَهُمْ ۱۵

Translation

اس جنّت کی صفت جس کا صاحبانِ تقویٰ سے وعدہ کیا گیا ہے یہ ہے کہ اس میں ایسے پانی کی نہریں ہیں جس میں کسی طرح کی بو نہیں ہے اور کچھ نہریں دودھ کی بھی ہیں جن کا مزہ بدلتا ہی نہیں ہے اور کچھ نہریں شراب کی بھی ہیں جن میں پینے والوں کے لئے لذّت ہے اور کچھ نہریں صاف و شفاف شہد کی ہیں اور ان کے لئے ہر طرح کے میوے بھی ہیں اور پروردگار کی طرف سے مغفرت بھی ہے تو کیا یہ متقی افراد ان کے جیسے ہوسکتے ہیں جو ہمیشہ جہّنم میں رہنے والے ہیں اور جنہیں گرما گرم پانی پلایا جائے گا جس سے آنتیں ٹکڑے ٹکڑے ہوجائیں گی.

Tafseer

									قرآنی آیات سے یہ بات بخوبی سمجھی جاسکتی ہے کہ بہشت میں مختلف قسم کی نہریں اور چشمے ہیں ، جن میں سے ہرایک کا اپنافائدہ اوراپنالطف ومزہ ہے ، جن میں سے چار کانمونہ تو مند رجہ بالا آیت میںپیش کیاگیا ہے اور باقی کے نمونے انشاء اللہ سُورہ ٴ دہر کی تفسیر میں بیان ہوں گے ۔
ان چار قسم کی نہروں کو ” انھار “ کے لفظ سے یاد کیاگیا ہے ، جس سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ ایک نہرنہیں بلکہ کئی کئی ” نہریں “ہونگی ۔
ہم پہلے بھی کئی مرتبہ بتاچکے ہی کہ بہشت کی نعمتیں ایسی ہیں جنہیں روز مرّہ کی دنیاوی زندگی کے الفاظ میں بیان نہیں کیاجاسکتا ، الفاظ ان نعمتوں کی کماحقہ تصویر کشی سے قاصر اورعاجزہیں، بلکہ صرف ان کا ایک ہلکا اور معمُولی ساخا کہ پیش کرسکتے ہیں۔ 
زیرتفسیر آیت میں بہشت کی چار پانی ،دودھ ،شراب طہور ، اور شہد کی نہروں کاذکرکیاگیا ہے ، ممکن ہے پہلی نہر پیاس دُور کرنے کے لیے ،دوسری خوراک کے حصُول کے لیے ، تیسری نشاط اورفرخت بخشنے کے لیے اور چھوتھی لذّت وقوت پیداکرنے کے لیے ہو۔
یہ بات بھی جاذب ِ توجہ ہے کہ قرآن کی دوسری آیات سے معلوم ہوتا ہے کہ تمام اہل بہشت ان تمام نہروں سے سیراب نہیں ہوں گے ، بلکہ مراتب اور منصب کے لحاظ سے ان سے بہرہ ور ہوں گے ، جیساکہ سورہ ٴ مطففین کی ۲۸ ویں آیت میں ہم پڑھتے ہیں :
”عَیْناً یَشْرَبُ بِہَا الْمُقَرَّبُونَ “ 
” ایسا چشمہ ہے جس سے مقربین بارگاہ الہٰی پانی پئیں گے “۔