Tafseer e Namoona

Topic

											

									  سوره زخرف/ آیه 26- 30

										
																									
								

Ayat No : 26-30

: الزخرف

وَإِذْ قَالَ إِبْرَاهِيمُ لِأَبِيهِ وَقَوْمِهِ إِنَّنِي بَرَاءٌ مِمَّا تَعْبُدُونَ ۲۶إِلَّا الَّذِي فَطَرَنِي فَإِنَّهُ سَيَهْدِينِ ۲۷وَجَعَلَهَا كَلِمَةً بَاقِيَةً فِي عَقِبِهِ لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ ۲۸بَلْ مَتَّعْتُ هَٰؤُلَاءِ وَآبَاءَهُمْ حَتَّىٰ جَاءَهُمُ الْحَقُّ وَرَسُولٌ مُبِينٌ ۲۹وَلَمَّا جَاءَهُمُ الْحَقُّ قَالُوا هَٰذَا سِحْرٌ وَإِنَّا بِهِ كَافِرُونَ ۳۰

Translation

اور جب ابراہیم نے اپنے (مربی) باپ اور اپنی قوم سے کہا کہ میں تمہارے تمام معبودوں سے بری اور بیزار ہوں. علاوہ اس معبود کے کہ جس نے مجھے پیدا کیا ہے کہ وہی عنقریب مجھے ہدایت دینے والا ہے. اور انہوں نے اس پیغام کو اپنی نسل میں ایک کلمہ باقیہ قرار دے دیا کہ شاید وہ لوگ خدا کی طرف پلٹ آئیں. بلکہ ہم نے ان لوگوں کو اور ان کے بزرگوں کو برابر آرام دیا یہاں تک کہ ان کے پاس حق اور واضح رسول آگیا. اور جب حق آگیا تو کہنے لگے کہ یہ تو جادو ہے اور ہم اس کے منکر ہیں.

Tafseer

									۲۶۔ وَ إِذْ قالَ إِبْراہیمُ لِاٴَبیہِ وَ قَوْمِہِ إِنَّنی بَراء ٌ مِمَّا تَعْبُدُونَ ۔
۲۷۔ إِلاَّ الَّذی فَطَرَنی فَإِنَّہُ سَیَہْدینِ ۔
۲۸۔وَ جَعَلَہا کَلِمَةً باقِیَةً فی عَقِبِہِ لَعَلَّہُمْ یَرْجِعُونَ ۔
۲۹۔ بَلْ مَتَّعْتُ ہؤُلاء ِ وَ آباء َہُمْ حَتَّی جاء َہُمُ الْحَقُّ وَ رَسُولٌ مُبینٌ ۔
۳۰۔ وَ لَمَّا جاء َہُمُ الْحَقُّ قالُوا ہذا سِحْرٌ وَ إِنَّا بِہِ کافِرُونَ ۔

ترجمہ 

۲۶۔اس وقت کو یاد کرو ، جب ابراہیم نے اپنے ( منہ بولے )باپ ( چچاآ ذر )اوراپنی قوم سے کہا کہ میں اس چیز سے بیزار ہوں ، جن کی تم عباد ت کرتے ہو۔
۲۷۔سوائے اس خدا کے جس نے مجھے پیداکیاہے اوروہی میری راہنما ئی بھی کر ے گا ۔ 
۲۸۔اوراس نے کلمہ ٴ توحید کو باقی رہنے والے کلمہ کی صُورت میں اپنی اولاد میںقرار دیا تاکہ وہ خدا کی طرف رجوع کریں ۔
۲۹۔لیکن ہم نے ا ن لوگوںکواوران کے آ باؤ اجداد کو دنیاوی نعمتوں سے بہرہ مند کیا یہاں تک کہ ان کے پاس حق اورخدا کاآشکار رسُول پہنچ گیا ۔
۳۰۔لیکن جب ان کے پاس حق آ گیا توانہوں نے کہا :یہ توجادُو ہے اورہم ہرگزاسے ماننے والے نہیں ۔