سوره زخرف/ آیه 1- 8
بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَٰنِ الرَّحِيمِ حم ۱وَالْكِتَابِ الْمُبِينِ ۲إِنَّا جَعَلْنَاهُ قُرْآنًا عَرَبِيًّا لَعَلَّكُمْ تَعْقِلُونَ ۳وَإِنَّهُ فِي أُمِّ الْكِتَابِ لَدَيْنَا لَعَلِيٌّ حَكِيمٌ ۴أَفَنَضْرِبُ عَنْكُمُ الذِّكْرَ صَفْحًا أَنْ كُنْتُمْ قَوْمًا مُسْرِفِينَ ۵وَكَمْ أَرْسَلْنَا مِنْ نَبِيٍّ فِي الْأَوَّلِينَ ۶وَمَا يَأْتِيهِمْ مِنْ نَبِيٍّ إِلَّا كَانُوا بِهِ يَسْتَهْزِئُونَ ۷فَأَهْلَكْنَا أَشَدَّ مِنْهُمْ بَطْشًا وَمَضَىٰ مَثَلُ الْأَوَّلِينَ ۸
حمۤ. اس روشن کتاب کی قسم. بیشک ہم نے اسے عربی قرآن قرار دیا ہے تاکہ تم سمجھ سکو. اور یہ ہمارے پاس لوح محفوظ میں نہایت درجہ بلند اور اَپراز حکمت کتاب ہے. اورکیا ہم تم لوگوں کو نصیحت کرنے سے صرف اس لئے کنارہ کشی اختیار کرلیں کہ تم زیادتی کرنے والے ہو. اورہم نے تم سے پہلے والی قوموں میں بھی کتنے ہی پیغمبر بھیج دیئے ہیں. اور ان میں سے کسی کے پاس کوئی نبی نہیں آیا مگر یہ کہ ان لوگوں نے ان کا مذاق اڑایا. تو ہم نے ان سے زیادہ زبردست لوگوں کو تباہ و برباد کردیا اور یہ مثال جاری ہوگئی.
بِسْمِ اللَّہِ الرَّحْمنِ الرَّحیمِ
۱۔حم ۔
۲۔ وَ الْکِتابِ الْمُبینِ ۔
۳۔ إِنَّا جَعَلْناہُ قُرْآناً عَرَبِیًّا لَعَلَّکُمْ تَعْقِلُونَ ۔
۴۔وَ إِنَّہُ فی اٴُمِّ الْکِتابِ لَدَیْنا لَعَلِیٌّ حَکیمٌ ۔
۵۔ اٴَ فَنَضْرِبُ عَنْکُمُ الذِّکْرَ صَفْحاً اٴَنْ کُنْتُمْ قَوْماً مُسْرِفینَ ۔
۶۔ وَ کَمْ اٴَرْسَلْنا مِنْ نَبِیٍّ فِی الْاٴَوَّلینَ ۔
۷۔ وَ ما یَاٴْتیہِمْ مِنْ نَبِیٍّ إِلاَّ کانُوا بِہِ یَسْتَہْزِؤُنَ ۔
۸۔ فَاٴَہْلَکْنا اٴَشَدَّ مِنْہُمْ بَطْشاً وَ مَضی مَثَلُ الْاٴَوَّلینَ ۔
ترجمہ
خدا وند رحمان اور رحیم کے نام سے
۱۔ حٰم ۔
۲۔ اس کتاب کی قسم جس کے حقائق آشکار ہیں ۔
۳۔ کہ ہم نے اسے فصیح اورعربی قرآن بنا یاہے تاکہ تم اسے سمجھ سکو۔
۴۔ اوروہ اصلی کتاب (لوح محفوظ ) میں ہمار ے پاس ہے جوکہ بڑی عظمت و الا اور حکمت آموز ہے ۔
۵۔ آیااس ذکر ( قرآن مجید ) کو ہم اس لیے تم سے واپس لے لیں کہ تم اسراف کرنے والی قوم ہو ؟
۶۔ اور گزشتہ قوموں میں ہم نے (ہدایت کے لیئے ) کس قدر انبیاء بھیجے ہیں !
۷۔ لیکن ان کے پاس کوئی بھی پیغمبر نہیں جاتاتھا مگر یہ کہ وہ اس کا مذاق اڑایا کرتے تھے ۔
۸۔ ہم نے توان لوگوں کو بھی ہلاک کرڈالا ، جوطاقت کے لحاظ سے ان سے بہت زیادہ تھے اور پہلے لوگوں کاذکر گزر چکاہے ۔