Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۱۔ تمہاری مصیبتیں خود تمہار ی ہی پیدا کردہ ہیں

										
																									
								

Ayat No : 27-31

: الشورى

وَلَوْ بَسَطَ اللَّهُ الرِّزْقَ لِعِبَادِهِ لَبَغَوْا فِي الْأَرْضِ وَلَٰكِنْ يُنَزِّلُ بِقَدَرٍ مَا يَشَاءُ ۚ إِنَّهُ بِعِبَادِهِ خَبِيرٌ بَصِيرٌ ۲۷وَهُوَ الَّذِي يُنَزِّلُ الْغَيْثَ مِنْ بَعْدِ مَا قَنَطُوا وَيَنْشُرُ رَحْمَتَهُ ۚ وَهُوَ الْوَلِيُّ الْحَمِيدُ ۲۸وَمِنْ آيَاتِهِ خَلْقُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ وَمَا بَثَّ فِيهِمَا مِنْ دَابَّةٍ ۚ وَهُوَ عَلَىٰ جَمْعِهِمْ إِذَا يَشَاءُ قَدِيرٌ ۲۹وَمَا أَصَابَكُمْ مِنْ مُصِيبَةٍ فَبِمَا كَسَبَتْ أَيْدِيكُمْ وَيَعْفُو عَنْ كَثِيرٍ ۳۰وَمَا أَنْتُمْ بِمُعْجِزِينَ فِي الْأَرْضِ ۖ وَمَا لَكُمْ مِنْ دُونِ اللَّهِ مِنْ وَلِيٍّ وَلَا نَصِيرٍ ۳۱

Translation

اور اگر خدا تمام بندوں کے لئے رزق کو وسیع کردیتا ہے تو یہ لوگ زمین میں بغاوت کردیتے مگر وہ اپنی مشیت کے مطابق معیّنہ مقدار میں نازل کرتا ہے کہ وہ اپنے بندوں سے خوب باخبر ہے اوران کے حالات کا دیکھنے والا ہے. وہی وہ ہے جو ان کے مایوس ہوجانے کے بعد بارش کو نازل کرتاہے اور اپنی رحمت کو منتشر کرتا ہے اور وہی قابل تعریف مالک اور سرپرست ہے. اور اس کی نشانیوں میں سے زمین و آسمان کی خلقت اور ان کے اندر چلنے والے تمام جاندارہیں اور وہ جب چاہے ان سب کو جمع کرلینے پر قدرت رکھنے والا ہے. اور تم تک جو مصیبت بھی پہنچتی ہے وہ تمہارے ہاتھوں کی کمائی ہے اور وہ بہت سی باتوں کو معاف بھی کردیتاہے. اور تم زمین میں خدا کو عاجز نہیں کرسکتے ہو اورتمہارے لئے اس کے علاوہ کوئی سرپرست اور مددگار بھی نہیں ہے.

Tafseer

									بہت سے لوگ گمان کرتے ہیں کہ انسانی اعمال کاخدا کی سزا اور جزا کے ساتھ رابط اس کے مقرر کردہ قوانین سے ایسے ہی ہے جیسے دنیاوی قوانین اورجرم کاباہمی رابط ہوتاہے . حالانکہ ہم بار ہابتاچکے ہیں کہ انسانی جرم اورخدائی قانون کاباہمی رابط تشریعی اور مقرر کردہ سزاؤں کی نسبت تکو ینی بنیادوں سے زیادہ مشابہ ہے.بالفاظ دیگر گناہوں کی سزا بیشتر انسان کے اعمال کا طبعی اور تکوینی نتیجہ ہے کہ جو انسان کو بھگتنا پڑے گا اورمندرجہ بالا آ یات اس بات کی واضح گواہ ہیں۔
اس سلسلے میں احادیث اسلامی کی کتابوں میں بہت سی روایات ذکرہوئی ہیں جن میں سے چند ایک کوہم گفتگو کی تکمیل کے لیے بیان کرتے ہیں۔
ْ(۱).نہج البلاغہ کے خطبہ ۱۷۸ میں ہے کہ امیرالمو منین علیہ السلا م نے فر مایا :
ماکا ن قوم قط فی غض نعمة من عیش،فزال عنھم،الا بذ نوب اجتر حو ھا ،لان اللہ لیس بظلام للعبید ولوان الناس حین تنزل بھم النقم ،و تز ول عنھم النعم،فز عواالی ربھم بصدق من نیاتھم ،وولہ فی قلوبھم ،لرد علیھم کل شارد،واصلح لھم کل فاسد 
کوئی بھی قوم نازونعمت کی آغوش سے اسی وقت جداہوئی ہے کہ اس نے گناہوں کا ارتکاب کیا ،کیونکہ خدااپنے بندوں پر ہر گز ظلم نہیں کرتا،اگر لوگ بلاؤں کے نزول اور نعمتوں کے چھن جانے کے موقع پر سچ نیت کے ساتھ خداکی بار گاہ میں اپنی عاجزی کااظہار کریں اور خدا کی محبت سے والہ و شیفتہ دل کے ساتھ ان کی تلافی کی دعاکریں،تو یقیناً خداان کی ضائع شدہ چیزوں کو پلٹا دے اوران کے ہرقسم کے بگاڑ کی اصلاح فر مادے۔

(۲) ۔ جامع الاخبار میں امیرالمومنین علیہ السلام سے ایک اورحدیث بھی منقول ہے . امام علیہ السلام فرماتے ہیں :

ان البلا ء للظالم ادب،وللموٴ من امتحان،وللا نبیاء درجة وللا و لیاء کرامة 
بلائیں ، ظالموں کے لیے تادیب ہوتی ہیں،مومنو ں کے لیے امتحان ،انبیاء کے لیے در جات اوراولیاء کے لیے مقام و مرتبہ اوربزرگی ہوتی ہیں ( ۱). 
یہ حدیث ہمارے بیان کردہ اس استثناء کی شاہد ہے جو آیت مذکورہ کے بار ے میں ہے۔

۱۔ بحا رالانوار، جلد ۸۱ ،ص ۱۹۸۔ 

(۳).کافی میں حضرت امام جعفرصادق علیہ السلام سے ایک اورحدیث یوں مروی ہے :

ان العبد اذا کثرت ذنوبہ،ولم یکن عندہ من العمل مایکفرھا ،ابتلاہ بالحزن لیکفرھا 
جب انسان کے گناہ زیادہ ہو جاتے ہیں اور عمل بھی اتنی مقدار میں نہیں ہوتے جو ان گناہوں کا کفارہ بن سکیں تو خدااسے رنج و غم میں مبتلا کردیتاہے جس سے اس کے گناہوں کاکفارہ ہو جاتاہے ( 1) ۔
( ۴). کتاب کافی میں اس موضوع پر مستقل اور مکمل بات قائم کیاگیاہے جس میں بارہ حدیثیں درج کی گئی ہیں ( 2).
پھر ی کہ یہ گناہ ان گناہوں کے علاوہ جو مذکورہ صریح آیت کے مطابق خداوند کریم کی عفودرحمت کی وجہ سے معاف کردیئے جائیں گے اور وہ بھی اپنے مقام پر بہت سے ہیں۔
1۔ کافی جلد دوم کتاب الایمان والکفر باب تعجیل عقو بة الذ نبہ الذ نب حدیث ،۲ ۔
2۔ ایضاً ۔