سوره شوری/ آیه 13- 14
شَرَعَ لَكُمْ مِنَ الدِّينِ مَا وَصَّىٰ بِهِ نُوحًا وَالَّذِي أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ وَمَا وَصَّيْنَا بِهِ إِبْرَاهِيمَ وَمُوسَىٰ وَعِيسَىٰ ۖ أَنْ أَقِيمُوا الدِّينَ وَلَا تَتَفَرَّقُوا فِيهِ ۚ كَبُرَ عَلَى الْمُشْرِكِينَ مَا تَدْعُوهُمْ إِلَيْهِ ۚ اللَّهُ يَجْتَبِي إِلَيْهِ مَنْ يَشَاءُ وَيَهْدِي إِلَيْهِ مَنْ يُنِيبُ ۱۳وَمَا تَفَرَّقُوا إِلَّا مِنْ بَعْدِ مَا جَاءَهُمُ الْعِلْمُ بَغْيًا بَيْنَهُمْ ۚ وَلَوْلَا كَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّكَ إِلَىٰ أَجَلٍ مُسَمًّى لَقُضِيَ بَيْنَهُمْ ۚ وَإِنَّ الَّذِينَ أُورِثُوا الْكِتَابَ مِنْ بَعْدِهِمْ لَفِي شَكٍّ مِنْهُ مُرِيبٍ ۱۴
اس نے تمہارے لئے دین میں وہ راستہ مقرر کیا ہے جس کی نصیحت نوح کو کی ہے اور جس کی وحی پیغمبر تمہاری طرف بھی کی ہے اور جس کی نصیحت ابراہیم علیھ السّلام, موسٰی علیھ السّلام اور عیسٰی علیھ السّلام کو بھی کی ہے کہ دین کو قائم کرو اور اس میں تفرقہ نہ پیدا ہونے پائے مشرکین کو وہ بات سخت گراں گزرتی ہے جس کی تم انہیں دعوت دے رہے ہو اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی بارگاہ کے لئے چن لیتا ہے اور جو اس کی طرف رجوع کرتا ہے اسے ہدایت دے دیتا ہے. اور ان لوگوں نے آپس میں تفرقہ اسی وقت پیدا کیا ہے جب ان کے پاس علم آچکا تھا اور یہ صرف آپس کی دشمنی کی بنا پر تھا اور اگر پروردگار کی طرف سے ایک بات پہلے سے ایک مدّت کے لئے طے نہ ہوگئی ہوتی تو اب تک ان کے درمیان فیصلہ ہوچکا ہوتا اور بیشک جن لوگوں کو ان کے بعد کتاب کا وارث بنایا گیا ہے وہ اس کی طرف سے سخت شک میں پڑے ہوئے ہیں.
۱۳۔ شَرَعَ لَکُمْ مِنَ الدِّینِ ما وَصَّی بِہِ نُوحاً وَ الَّذی اٴَوْحَیْنا إِلَیْکَ وَ ما وَصَّیْنا بِہِ إِبْراہیمَ وَ مُوسی وَ عیسی اٴَنْ اٴَقیمُوا الدِّینَ وَ لا تَتَفَرَّقُوا فیہِ کَبُرَ عَلَی الْمُشْرِکینَ ما تَدْعُوہُمْ إِلَیْہِ اللَّہُ یَجْتَبی إِلَیْہِ مَنْ یَشاء ُ وَ یَہْدی إِلَیْہِ مَنْ یُنیبُ ۔
۱۴۔وَ ما تَفَرَّقُوا إِلاَّ مِنْ بَعْدِ ما جاء َہُمُ الْعِلْمُ بَغْیاً بَیْنَہُمْ وَ لَوْ لا کَلِمَةٌ سَبَقَتْ مِنْ رَبِّکَ إِلی اٴَجَلٍ مُسَمًّی لَقُضِیَ بَیْنَہُمْ وَ إِنَّ الَّذینَ اٴُورِثُوا الْکِتابَ مِنْ بَعْدِہِمْ لَفی شَکٍّ مِنْہُ مُریبٍ ۔
ترجمہ
تمہارے لئے وہی دین مقرر کیاہے کہ جس کے متعلق نوح کو ہدایت کی تھی اور وہ جو ہم نے تیر ی طرف وہی بھیجی اور جو دہدا یت ہم نے ابراہیم ، موسٰی اورعیسٰی کو کی ( وہ یہ تھی ) کہ دین کو قائم و بر قرار رکھو اوراس میں تفر قہ ایجاد نہ کرو . ہرچند کہ تیری یہ دعوت مشرکین پرسخت گراں ہے ، خدا جسے چاہے منتخب کر لیتاہے اور جو اس کی طرف لوٹے اس کی ہدایت کرتاہے۔
۱۴۔ وہ علم اور آگاہی کے بعد ہی تفرقہ کاشکار ہوئے ہیں اور یہ تفرقہ بازی حق سے انحراف ( اور عداوت وحسد ) کی وجہ سے تھی اوراگر تیرے پر وردگار کی جانب سے فرمان صادر نہ ہو چُکا ہوتاکہ وہ ایک خاص مقرر شدہ مدّت تک کے لیے زندہ اورآزاد رہیں توخدا نے ان کے درمیان فیصلہ کردیاہوتا اورجولوگ ان کے بعد کتاب کے وارث ہوئے ہیں وہ بدگمانی پرمبنی شک وشبہ میں متلا ہیں۔