Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۲۔ ایک ادبی نکتہ

										
																									
								

Ayat No : 9-12

: الشورى

أَمِ اتَّخَذُوا مِنْ دُونِهِ أَوْلِيَاءَ ۖ فَاللَّهُ هُوَ الْوَلِيُّ وَهُوَ يُحْيِي الْمَوْتَىٰ وَهُوَ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ ۹وَمَا اخْتَلَفْتُمْ فِيهِ مِنْ شَيْءٍ فَحُكْمُهُ إِلَى اللَّهِ ۚ ذَٰلِكُمُ اللَّهُ رَبِّي عَلَيْهِ تَوَكَّلْتُ وَإِلَيْهِ أُنِيبُ ۱۰فَاطِرُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ جَعَلَ لَكُمْ مِنْ أَنْفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَمِنَ الْأَنْعَامِ أَزْوَاجًا ۖ يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ ۚ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ ۖ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ ۱۱لَهُ مَقَالِيدُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۖ يَبْسُطُ الرِّزْقَ لِمَنْ يَشَاءُ وَيَقْدِرُ ۚ إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ ۱۲

Translation

کیا ان لوگوں نے اس کو چھوڑ کر اپنے لئے سرپرست بنائے ہیں جب کہ وہی سب کا سرپرست ہے اور وہی اَمردوں کو زندہ کرتا ہے اور وہ ہر شے پر قدرت رکھنے والا ہے. اور تم جس چیز میں بھی اختلاف کرو گے اس کا فیصلہ اللہ کے ہاتھوں میں ہے. وہی میرا پروردگار ہے اور اسی پر میرا بھروسہ ہے اور اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں. وہ آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنے والا ہے اس نے تمہارے نفوس میں سے بھی جوڑا بنایا ہے اور جانوروں میں سے بھی جوڑے بنائے ہیں وہ تم کو اسی جوڑے کے ذریعہ دنیا میں پھیلا رہا ہے اس کا جیسا کوئی نہیں ہے وہ سب کی سننے والا اور ہر چیز کا دیکھنے والا ہے. آسمان و زمین کی تمام کنجیاں اسی کے اختیار میں ہیں وہ جس کے لئے چاہتا ہے اس کے رزق میں وسعت پیدا کردیتا ہے اور جس کے لئے چاہتا ہے تنگی پیدا کردیتا ہے وہ ہر شے کا خوب جاننے والا ہے.

Tafseer

									” لیس کمثلہ شی ء “ میں ” کاف “ حرف تشبیہ ہے ، جس کامعنی ہے ” مثل “ اور یہ پوراجملہ مل کریہ معنی دے گا ” اس کی مثل جیسی کوئی چیز نہیں ہے “ اس لفظی تکرار کی وجہ سے بہت سے مفسرین نے ” کاف “ کو زائدہ تسلیم کیاہے جوعام طور پر تاکید کے لیے آتاہے . فصحاء عرب کے کلام میں ایسی ہزا روں مثالیں ملتی ہیں۔
لیکن یہاں پر ایک نہایت ہی لطیف حوادث سے نہیں ب بھا گناچاہیئے جن میں اس قدر شجاعت ، بہادری ،عقل اورہوش وخرد ہو. ( یعنی جن لوگوں میں تمہارے جیسی صفات پائی جائیں انہیں یہ کام کرنا چاہیئے ).
زیر بحث آیات کایہ معنی ہوگا: خدا وند عالم کی مثل کی مثل کبھی نہیں ہوسکتی جس میں وسیع علم اور عظیم و لا متناہی صفات پائی جائیں۔
یہ نکتہ بھی پیش نظر رہے کہ بعض ارباب لغت کے بقول چند الفاظ ایسے ہیں جو” مثل “ کامعنی دیتے ہیں . البتہ اس کے مفہوم کے جامع ہونے کو نہیں پہنچ سکتے ۔
” ند “ ( بروزن ضد ) کالفظ وہاں بولاجاتاہے جہاں پرصرف جو ہر اورماہیت میں شبا ہت مقصود ہو ۔
” شبہ “ کالفظ وہاں بو لاجاتاہے جہاں کیفیت کی بات درپیش ہو ۔
” مسا وی “ کااطلاق وہاں ہوتاہے جہاں پرتعداد ( کمیّت ) کی بات کرنی مقصود ہو ۔
”شکل “ وہاں پر بولتے ہیں جہاں پر مقدار کی بات ہو ۔
لیکن ”مثل “ کا مفہوم وسیع اور عام ہے کہ جس میں سب مفاہیم جمع ہیں . یہی وجہ ہے کہ جب خداوند عالم اپنی ذات سے ہرقسم کی شبیہ ونظیر کی نفی کرناچاہتا ہے توفرماتاہے ” لیس کمثلہ شی ء “ ( 1).
 1۔ مفردات راغب . مادہ ” مثل “ ۔