Tafseer e Namoona

Topic

											

									  ۱۔ برہان نظم اور برہان صدیقین

										
																									
								

Ayat No : 53-54

: فصلت

سَنُرِيهِمْ آيَاتِنَا فِي الْآفَاقِ وَفِي أَنْفُسِهِمْ حَتَّىٰ يَتَبَيَّنَ لَهُمْ أَنَّهُ الْحَقُّ ۗ أَوَلَمْ يَكْفِ بِرَبِّكَ أَنَّهُ عَلَىٰ كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ ۵۳أَلَا إِنَّهُمْ فِي مِرْيَةٍ مِنْ لِقَاءِ رَبِّهِمْ ۗ أَلَا إِنَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ مُحِيطٌ ۵۴

Translation

ہم عنقریب اپنی نشانیوں کو تمام اطراف عالم میں اور خود ان کے نفس کے اندر دکھلائیں گے تاکہ ان پر یہ بات واضح ہوجائے کہ وہ برحق ہے اور کیا پروردگار کے لئے یہ بات کافی نہیں ہے کہ وہ ہر شے کا گواہ اور سب کا دیکھنے والا ہے. آگاہ ہوجاؤ کہ یہ لوگ اللہ سے ملاقات کی طرف سے شک میں مبتلا ہیں اور آگاہ ہوجاؤ کہ اللہ ہر شے پر احاطہ کئے ہوئے ہے.

Tafseer

									ہم جانتے ہیں کہ فلسفی حضرات توحید کے دلائل میں سے دو دلیلوں کوبہت زیادہ اہمیت دیتے ہیں ، سب سے پہلے بر ہان ِ نظم کوپھر برہان صدیقین ۔
برہان نظم : جیساکہ اس کے نام سے ظاہر ہے کہ اس برہان کو کہتے جو اس کائنات اوراس کے مبداٴ کے علم و قدرت کے اسرار و رموز کی طرف اہنمائی کرتی ہے . قرآن مجید اس روشن اورواضح دلیل کے سات استد لالات سے پُر ہے اور ہر جگہ پر زمین و آسمان ، عالم حیات اورمختلف موجو دات میں حق کی نشانیوں کے مختلف نمونے پیش کرتاہے اسی سے اس کی ذات کی طرف راستے رکھلتے ہیں۔
یہ دلیل تمام طبقات کے لیے قابل ادراک ہے اور ہرشخص اپنی سمجھ اور معلومات کے مطابق اس سے استفادہ کرسکتا ہے . بڑے بڑے علماء و دانشو ر اپنی سمجھ کے مطابق اور کم تعلیم یافتہ یاان پڑھ لوگ اپنی سمجھ کے مطابق ۔
برہان صدیقین : 
یہ وہ برہان ہے جس کے ذریعے ”ذات “ سے ”ذات“ تک پہنچتے ہیں ، اور بار ی تعالیٰ کے واجب الوجود سے ہی اسی کی ذات کی حقیقت تک رسائی ہوتی ہے .دوسرے لفظوں میں اس برہان میں ممکنات اورمخلوقات عالم اس کے وجود کے اثبات کاذریعہ نہیں ہیں بلکہ اسی کی ایک پاک ذات ہی اسی کی ذات پردلیل ہے اور ” یامن دل علی ذاتہ(1) یاشہداللہ انہ لاالہٰ الا ھو “ ( خدا گواہی دیتا ہے کہ اس کے علاوہ کوئی معبود نہیں )( 2) کامصداق ہوتی ہے۔
یہ ایک پیچیدہ فلسفی لال ہے اور اس کی مبادیات کاعلم رکھنے والوں کے علاوہ کوئی بھی اس کی گہرائیوں تک رسائی حاصل نہیں کرسکتے اور یہاں پرہمارامقصد اس کی تفصیل بیان کرنا نہیں ہے کیونکہ اس کی جگہ فلسفی کتابیں ہیں ، بلکہ ہم تو یہاں پرصرف یہ حقیقت واضح کرناچاہتے ہیں کہ بعض مفسرین نے آیت ” سَنُریہِمْ آیاتِنا فِی الْآفاق “ کے آغاز کو برہان نظم اور علت و معلول کی طرف اشارہ سمجھاہے ( اٴَ وَ لَمْ یَکْفِ بِرَبِّکَ اٴَنَّہُ عَلی کُلِّ شَیْء ٍ شَہیدٌ ) کوبرہان صدیقین کی طرف اشارہ سمجھا ہے لیکن خود آیت کے اندر اس بات پرکوئی واضح قرینہ موجود نہیں۔
1۔ دعائے صباح منقول ازعلی علیہ السلام ۔
2۔ سور ہ آل عمران آیت . ۱۸۔